کوئٹہ: چار دھماکوں میں چھ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شب یکے بعد دیگرے چار دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور کم از کم چالیس سے زائد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق ان میں سے ایک دھماکہ خود کش تھا۔

دریں اثنا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک اور انتخابی امیدوار کے گھر پر دستی بم سے حملہ ہوا ہے۔

کوئٹہ میں چار دھماکے دو گھنٹے کے وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے ہوئے۔

ان دھماکوں میں نیچاری کے علاقے میں پیر محمد روڈ پر ہونے والے دھماکہ زیادہ زوردار تھا جس کی آواز شہر میں دور دور تک سنائی دی ۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر میر زبیر محمود نے اس واقعہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پیر محمد روڈ پر ہونے والا دھماکہ خود کش تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور بارود سے بھری گاڑی کو اپنی ٹارگٹ کی جانب لے جانا چاہتے تھے۔

اس علاقے میں فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر ایک اہلکار نے گاڑی کو جب روکنے کا اشارہ کیا تو خود کش حملہ آور نے گاڑی کو اڑا دیا۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر میر زبیر محمود نے مزید کہا کہ اس دھماکے میں فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔

زخمیوں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں سو کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

دریں اثناء بلوچستان کے حکومتی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے علاقے علمدار روڈ پر اپنی ٹارگٹ کی جانب جانا چاہتے تھے کہ فرنٹیئر کور کے ایک اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل اس کو ناکام بنادیا۔

اس سے قبل جناح ٹاؤن،گوالمنڈی چوک اورگوردت سنگھ روڈ پر دھماکے ہوئے۔گوالمنڈی چوک پر ہونے والے دھماکے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔

جناح ٹاؤن،گوالمنڈی چوک اورگوردت سنگھ روڈ پر ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

ادھر بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر میں ایک انتخابی امیدوار کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدوار حاجی اسلام کے گھر پر ہوا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ پنجگور ہی کے علاقے میں گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں سے امیدوار اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد بلوچ کی گاڑیوں کے قافلے کو بھی بم حملے کا نشانہ بنایا گیاتھا۔

اسد بلوچ کے قافلے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

اسی طرح ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین میں گزشتہ روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حساس ادارے کا ایک اہلکار ہلاک ہوا تھا۔

خیال رہ کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پہلے سے خراب تھی لیکن انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں