دوسرے دن بھی تشدد کے واقعات، ہلاکتیں گیارہ

پاکستان کے تین صوبوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دس دھماکے ہوئے ہیں، جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ان واقعات کے باعث ملک میں جاری انتخابی سرگرمیوں پر خوف اور بے یقینی کے سیاہ بادل چھا گئے ہیں اور انتخابی نعرے دھماکوں کی گونج میں دب گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو تین دھماکوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت سترہ افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق بدھ کی صبح سٹیلائٹ ٹاؤن میں ایک نجی ہسپتال کے سامنے ایک سائیکل پر نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں تیرہ افراد زخمی ہو گئے۔

سریاب روڑ پر ہونے والے دوسرے دھماکے میں بھی سائیکل بم استعمال کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد سائیکل میں بم نصب کر کے اسے کیچی بیگ تھانے کے قریب چھوڑ گئے۔دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ میں ہی تیسرا دھماکہ نیو جان محمد روڑ پر بدھ کی شام کو ہوا۔پولیس کے مطابق کریکر کے دھماکے میں دو افراد زخمی ہو گئے اور دھماکے کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

اس سے پہلے کوئٹہ میں منگل کی شب یکے بعد دیگرے چار دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور کم از کم چالیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

منگل کی رات کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہو گئی اور پندرہ افراد زخمی ہیں۔

یہ دھماکہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے انتخابی دفتر کے قریب ہوا تھا اور اس دھماکے کے خلاف ایم کیو ایم نے بدھ کو کراچی میں ہڑتال کی کال دی تھی اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے گزشتہ شب رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ تمام انتخابی دفاتر بند کر دیے جائیں۔

کراچی سے نامہ نگار کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے شہر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہی اور پبلک ٹرانسپورٹ، جامعات اور نجی سکول بند رہے۔

Image caption انتخابات کے اعلان کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر میں یہ پہلی ہڑتال تھی

کراچی کے علاوہ صوبہ سندھ کے دوسرے شہروں حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور چند دیگر شہروں میں بھی کاروبار بند رہا۔

انتخابات کے اعلان کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر میں یہ پہلی ہڑتال تھی۔

پاکستان میں شدت پسندی سے سب سے متاثرہ صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے سرکی گیٹ میں ایک دھماکے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق دھماکہ ایک ٹھیکیدار کے مکان کے سامنے ہوا۔

پشاور سے نامہ نگار کے مطابق صوبے کے دوسرے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں سابق رکن صوبائی اسمبلی اسرار خان گنڈہ پور پر بم حملہ ہوا۔ ایک چھوٹے پل کے دونوں جانب دو ھماکے ہوئے اور اس کے نتیجے میں اسرار گنڈہ پور کی گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا لیکن وہ اس بم حملے میں محفوظ رہے۔

عام انتخابات کے حوالے سے یہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بنوں،پشاور، چارسدہ اور سوات میں انتخابی امیدواروں اور انتخابی جلسوں پر حملے ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں گیارہ مئی کو عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ انتخابی مہم اور انتخابات کے دن امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنا وفاقی اور صوبائی نگراں حکومتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں