ڈاک کے ذریعے ووٹ، رجحان حوصلہ افزا نہیں

Image caption پاکستان میں عام طور پر سرکاری میڈیا انتخابات سے پہلے ووٹ ڈالنے کا طریقۂ کار سمجھانے کی مہم چلاتا ہے

پاکستان میں ڈاک کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا رجحان حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتا۔

ڈاک کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کرنے کی آخری تاریخ 25 اپریل ہے لیکن اس طریقۂ کار سے ووٹ دینے میں کسی خاص دلچسپی کا اظہار دیکھنے میں نہیں آ رہا۔

11 مئی کے انتخابات کے لیے ایسے لوگ جو اپنے گھروں سے دور ہیں وہ 25 اپریل تک الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1997 کے عام انتخابات میں44649 افراد نے ڈاک کے ذریعے ووٹ دیا، سنہ 2002 میں یہ تعداد بڑھ کر 54062 ہو گئی اور سنہ 2008 کے انتخابات میں 59013 ووٹرز نے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر رحمت علی مجاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے والے افراد کا صحیح تعین تو ابھی تک نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا ’اگر افواج پاکستان کے دوسری جگہوں پر تعینات افسران، جوانوں، وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والے سرکاری ملازمین، انتخابات میں ڈیوٹی دینے والے عملے کے اراکین اور اپنے گھروں سے دور محنت مزدوری کرنے والے تمام افراد کی تعداد کا ایک غیر محتاط اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد 25 لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے اور اگر گزشتہ انتخابات میں ڈاک کے ذریعے پڑنے والے ووٹوں کی تعداد دیکھی جائے تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے‘۔

انتخابات کے دن لاکھوں کی تعداد میں افراد الیکشن ڈیوٹی دے رہے ہوں گے اور ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ الیکشن کروانے والے یہ لوگ خود تو اپنا حق رائے دہی استعمال ہی نہیں کر پاتے۔

غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی سربراہ ممتاز مغل کہتی ہیں کہ اس بار صرف پنجاب میں 4 لاکھ افراد الیکشن ڈیوٹی دیں گے جن میں 2 لاکھ خواتین ہیں اور یہ خواتین تو حق رائے دہی سے محروم ہو جاتی ہیں۔

ممتاز مغل کے بقول ان انتخابات میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کروانے والا عملہ اپنا ووٹ دے سکے لیکن ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا طریقۂ کار بھی کافی پیچیدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ افراد کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کو یقینی بنانے کے لیے ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ اس کی حتمی تاریخ میں توسیع کر دے۔

پاکستان میں بہت بڑی تعداد ان فوجیوں کی ہے جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے گھروں سے دور ہوتے ہیں اور انتخابات میں امن وامان کی صورتِ حال قائم رکھنے کے لیے انہی کی خدمات درکار ہوتی ہے۔

تجزیہ نگار بریگیڈیر ریٹائرڈ فاروق حمید کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں تو فوجی جوانوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔

ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار نسبتاً زیادہ فوجی ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد بیرون ملک رہتی ہے اور الیکشن کمیشن بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو حق رائے دہی کی سہولت ڈاک کے ذریعے فراہم کرنے پر معذرت کر چکا ہے۔

نیویارک میں مقیم پاکستانی خاتون ثمر گل سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانی محب وطن ہیں اور ان کا پورا حق ہے کہ انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے دیا جائے۔

پاکستان میں عام طور پر سرکاری میڈیا انتخابات سے پہلے ووٹ ڈالنے کا طریقۂ کار سمجھانے کی مہم چلاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے درخواست دینے کی حتمی تاریخ سر پر ہے اور لوگوں کو اس پیچیدہ طریقے سے ووٹ ڈالنے کے لیے آگاہی دینے کی مہم کا ذرائع ابلاغ پر دور دور تک پتہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں