’مشرف کو رینجرز اہلکاروں نے فرار کروایا‘

Image caption پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی کے موقعے پر صرف 40 پولیس اہلکار تعینات تھے

اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اٹھارہ اپریل کواسلام آباد ہائی کورٹ سے فرار کروانے میں پیراملٹری فورس رینجرز کے اہلکاروں کا ہاتھ ہے اور اگر پولیس اُنھیں روکنے کی کوشش کرتی تو دو اداروں کے درمیان خوفناک تصادم کا خطرہ تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر صرف 40 پولیس اہلکار اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات تھے جب کہ ملزم پرویز مشرف کے ساتھ رینجرز کے کمانڈوز کی تعداد دو سو سے زائد تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی بُلٹ پروف گاڑی کو عدالت کے احاطے میں لے جانے کی ہدایت اسلام آباد ہائی کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے دی تھی۔

یاد رہے کہ آئی جی اسلام آباد پولیس بنیامین خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی گرفتاری دیے بغیر عدالت کے احاطے سے چلے جانے کی تمام تر ذمے داری اسلام آباد پولیس کے سربراہ پر عائد کی تھی اور سیکرٹری داخلہ کو اُن کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے درخواست گُزار سے پوچھا کہ اسلام آباد پولیس کے کسی بھی افسر یا اہلکار نے رینجرز کے اہلکاروں سے پوچھنے کی جسارت کی کہ وہ اسلحہ لے کر کیوں عدالت کے احاطے میں آئے ہیں۔آئی جی پولیس اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پولیس کا دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے کہ امیر کے لیے ایک قانون اور عام آدمی کے لیے دوسرا۔

بنیامین کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے وکلا کی وردی پہن رکھی تھی اس لیے پولیس اُنھیں شناخت نہیں کر سکی ۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اسلام باد ہائی کورٹ جہاں پر سینیئر وکلا کو ہائی کورٹ کے احاطے میں گاڑی تک لے کر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں پر سابق صدر، جو اس مقدمے میں ملزم ہیں، کیسے دو سو کمانڈوز کے ساتھ بُلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر عدالت کے احاطے میں پہنچ گئے۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے پوچھا کہ اس واقعے کو گزرے سات روز ہوگئے ہیں تو کیا کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہے؟ جس کا آئی جی اسلام بنیامین نے نفی میں جواب دیا۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ وہاں پر موجود پولیس کے عملے نے مرکزی گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو اطلاع دی کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ ہو چکی ہے لہذٰا گیٹ بند کر دیا جائے لیکن اُس وقت رینجرز کے اہلکاروں اور کمانڈوز کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ شائد پولیس اہلکار اُن کو نہ روک سکتے۔

عدالت کے استفسار پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہاں پر 40 پولیس اہلکار تعینات تھے جس پر بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ 200 سے زائد کمانڈوز کے لیے صرف 40 پولیس اہلکار۔

عدالت نے 25 اپریل کو آئی جی اسلام آباد بنیامین خان سے پرویز مشرف کے عدالت سے گرفتاری دیے بغیر چلے جانے اور بھر اُن کی گرفتاری کے بارے میں متعقلہ تھانے کے روزنامچے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

اسی بارے میں