بینظیر بھٹو قتل کیس:مشرف کی عبوری ضمانت خارج

Image caption پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا گیا تھا

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت عدم پیروی کی بنا پر خارج کر دی ہے۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کو اس مقدمے میں گرفتار کرنے اور ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کا فیصلہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی۔

جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست کی سماعت شروع کی تو ملزم کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ تاہم کچھ دیر کے بعد ایک خاتون وکیل عدالت میں پیش ہوئیں اور انھوں نے کہا کہ وہ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتی ہیں۔

عدالت نے جب ان سے وکالت نامہ دکھانے کو کہا تو اس ضمن میں وہ عدالت میں کوئی وکالت نامہ پیش نہ کر سکیں۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک اشتہاری مجرم کو ضمانت قبل از گرفتاری دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملزم پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول تک سے رابطہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق فوجی صدر عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں قید ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا ہوا ہے۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انھیں حراست میں لینے کا فیصلہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم کے سربراہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایف آئی اے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل کے مطابق اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ خالد قریشی نے ان دنوں عارضی طور پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا چارج بھی سنبھالا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں حراست میں لینے اور اُن سے پوچھ گچھ کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی جس کے بعد ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا بھی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز سمیت سات افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن پر فرد جُرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد ان دنوں ضمانت پر ہیں جب کہ پرویز مشرف پر اس مقدمے میں اعانت مجرمانہ کا الزام ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کا دورانِ تفتیش جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملک میں سیاسی حکومت کی غیر موجودگی کی وجہ سے ایف آئی اے کے لیے خود فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگا کہ وہ ایک سابق آرمی چیف کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے متعقلہ عدالت میں درخواست دے۔

اسی بارے میں