پاکستان: انتخابات کے حوالے سے شکوک و شہبات

پاکستان کے انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے لیکن اکثر افراد کے ذہنوں میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں؟

یہ سوال سن کر قدرے غصہ بھی آتا ہے کہ لوگ کیوں ایسا سوچ رہے ہیں لیکن ملکی سیاسی تاریخ اور زمینی حقائق دیکھیں تو یہ شک کوئی زیادہ بےجا بھی نہیں۔

ملک میں آئے روز بم دھماکے، مخصوص جماعتوں کے امیدواروں پر حملے اور ماضی میں اقتدار کے ایوانوں میں ازل سے جاری سازشیں اور شازشی عناصر عوام کو دائمی شکوک وشبہات میں مبتلا رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ ایسے میں سیاستدان بھی اعتماد بحال رکھنے کی بجائے شکایتوں کا انبار لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے نظر آتے ہیں۔

بحثیت قوم ہمیں چاہیے کہ ہم جمہوریت کی گاڑی کی پٹری پر رہنے پر خوش ہوں، جشن منائیں کہ سیاستدان ایک مرتبہ پھر عوام کے احتساب کی چھری کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت سے دوسری کو پرامن طریقے سے اقتدار منتقل کیا جا رہا ہے۔ اگر بعض متنازع سیاستدان ریٹرنگ افسران کے عجیب و غریب سوالات سے بچ نکلے لیکن ووٹ کی کلہاڑی سے انہیں نہیں بچنا چاہیے۔

پاکستان میں اس وقت جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے صبر و تحمل کی۔ حالیہ دنوں میری ملاقات چند فوجی اہلکاروں سے ہوئی تو وہ بھی سیستدانوں سے کافی نالاں دکھائی دیے اور انفرادی حثیت میں تجویز کیا کہ پارلیمانی نہیں شاید صدارتی نظام پاکستان کے لیے بہتر رہے۔

میں نے احترام کے ساتھ ان سےاختلاف کیا جس کی وجہ سے شاید دوسرے دن ہمیں نہ انٹرویو دیا اور نہ ہی علاقے کا دورہ کروایا۔

میرا موقف یہی تھا کہ نظام اچھے یا برے تو ہوتے ہی ہیں لیکن اصل بات افراد ہوتے ہیں جو اس نظام کو چلاتے ہیں۔ اگر وہ ہی بری نیت رکھتے ہیں تو چاہیے کوئی بھی نظام متعارف کروا دیں ملک کی گاڑی نہیں چلے گی۔

پاکستان کے سیاستدنوں اور سابق حمکرانوں کی کمزوریاں اپنی جگہ لیکن ہمیں ان انتخابات کو کسی اہم موقع کی طرح منانا چاہیے۔ مسئلے، مسائل آتے رہیں گے اور ہمارا ذرائع ابلاغ انہیں پیش بھی کرتا رہے گا لیکن ہمیں مجموعی تصویر کو دیکھنا چاہیے محض اس کی خامیوں کو نہیں۔

شدت پسندوں کی جانب سے بعض جماعتوں کو نشانے پر لانے کی وجہ سے انتخابات کے نتائج متاثر ہوسکتے ہیں لیکن اس سے انتخابات رکنے نہیں چاہیں۔ اب تک تو ایسا ہی لگتا ہے کہ انتخابات ضرور ہوں گے، وقت پر ہوں گے اور لوگوں کو بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالنے چاہیے۔

پاکستان ووٹر ٹرن آوٹ کے اعتبار سے 169 ممالک جہاں گزشتہ 50 برسوں میں انتخابات ہوئے 164 نمبر پر ہے۔ تو چلیں ووٹ ڈالنے؟ تاکہ ہو جائے جشن جمہوریت۔

اسی بارے میں