سندھ: بڑا اپ سیٹ نہیں ہو گا

Image caption سندھ میں دس جماعتی اتحاد کا واحد نکتۂ اشتراک پیپلز پارٹی کی مخالفت ہے

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا گیا دس جماعتی اتحاد اندرونی خلفشار کی وجہ سے متحرک اور کارگر ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس اتحاد نے تاحال کسی بھی حلقے میں مشترکہ مہم نہیں چلائی، اور اتحاد میں شامل جماعتوں کی مہم اپنے امیدواروں تک محدود نظر آتی ہے۔

ایوانِ اقتدار میں پہنچنے کی خواہش نے ماوزے تنگ اور مودودی، جی ایم سید اور مفتی محمود کے پیروکاروں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا ہے۔ صوبے میں مذہبی، سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے انتخابات میں مشترکہ طور پر شریک ہونے کے لیے اتحاد تشکیل دیا تھا۔

اس بے نام دس جماعتی اتحاد کے پاس کوئی مشترکہ پروگرام یا انتخابی نشان نہیں، اس کے علاوہ ہر جماعت اپنے بنیادی فکر اور نظریے میں بھی مختلف ہے۔ ہاں ان تمام جماعتوں میں ایک بات مشترکہ ہے وہ یہ کہ تمام پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالف ہیں، اس نکتے نے انہیں اکٹھا رکھا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کی متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی کوششیں ناکام رہیں، لیکن صوبۂ سندھ میں یہ تینوں جماعتیں اتحادی اور دس جماعتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ پنجاب میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن میں مفاہمت نہیں ہوسکی لیکن سندھ میں دونوں جماعتیں مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہیں۔

یہ اتحاد پورے سندھ کے لیے بن نہیں سکا ہے، یہ جماعتیں کچھ حلقوں میں اتحادی ہیں تو کچھ حلقوں میں ان کے امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ قومی اسمبلی کے 14 اور صوبائی اسمبلی کے 40 ایسے حلقے ہیں، جہاں یہ اتحاد مشترکہ امیدوار لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

اس اتحاد کے لیے سرگرم جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ پرامید ہیں کہ جس مقصد کے لیے یہ اتحاد بنایا گیا تھا وہ خاصی حد تک حاصل ہوچکا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتِ حال مزید واضح ہوجائے گی۔

’یہ بنیادی طور پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اتحاد تھا اگر ایک ہی انتخابی نشان ہو تو جماعتیں ضم ہوجاتی ہیں۔ ہر جماعت کا اپنا منشور تھا، تمام نے یہاں ہر جماعت نے امیدوار اپنے کھڑے کردیے تھے، انھیں دستبردار کرنا اور ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا خاصا دشوار تھا۔‘

اتحاد میں شامل جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور جمیعت علمائے پاکستان نے متحدہ مجلس کے بینر تلے 2002 کے انتخابات میں سندھ سے چار قومی اسمبلی اور پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، 2008 کے انتخابات کا ایم ایم اے نے بائیکاٹ کیا جمیعت علمائے اسلام انتخابات میں شریک ہوئی لیکن اسے کسی سیٹ پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

مسلم لیگ ن نے آخری بار 1997 میں سندھ سے نشستیں حاصل کی تھیں، جن میں 15 صوبائی اور نو قومی اسمبلی کی نشستیں شامل تھیں۔ پچھلے دو انتخابات میں مسلم لیگ ن پورے سندھ میں امیدوار تک نامزد نہیں کرسکی تھی۔

مسلم لیگ فنکشنل مسلم لیگ ن کی ہر حکومت کی اتحادی رہی ہے اس بار فنکشنل لیگ پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی ساڑھے چار سال تک اتحادی رہی، لیکن بلدیاتی نظام پر اپنی راہیں الگ کرکے عوامی حمایت اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ فنکشنل نے گذشتہ انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی سات اور قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

سندھ کی قوم پرست جماعتیں اپنی فکر اور سوچ میں سیکیولر اور ترقی پسند خیالات کی پیروکار رہی ہیں، تجزیہ نگار شہاب اوستو اس دس جماعتی اتحاد کو قوم پرستوں کا غیر فطری اور ناقابل عمل فیصلہ قرار دیتے ہیں:

’قوم پرستوں کا پروگرام اور ان کی سیاست ان ہی قوتوں کے خلاف رہی ہے جن کے ساتھ آج وہ بیٹھے ہوئے ہیں، ان کی سیاست سندھ کے مسائل پر رہی ہے، ماضی میں نواز شریف اور مسلم لیگ فنکشنل جو سٹیبلشمنٹ کی اتحادی جماعت سمجھی جاتی ہے، قوم پرستوں کی تنقید کا ہدف رہے ہیں۔،

سندھ میں پیپلز پارٹی کے متبادل کی متلاشی مڈل کلاس کی خواہش تھی کہ قوم پرست جماعتیں اپنے اتحاد کی صورت میں انتخابات میں حصہ لیں لیکن سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائنس انتخابات کے اعلان سے پہلے منتشر ہوگیا اور ان جماعتوں نے اپنے طور پر سیاسی اتحادیوں کی تلاش شروع کردی، اس صورتِ حال کا فائدہ مسلم لیگ فنکشنل کو ہوا جس نے خود کو بطور قوم پرست جماعت متعارف کرانے کی کوشش کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے متحدہ قومی موومنٹ سے اتحاد اور بلدیاتی نظام پر قوم پرست جماعتوں نے رائے عامہ کو پیپلز پارٹی کے خلاف کرنے کی بھرپور کوشش کی، اور پہلی بار پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہڑتالیں اور مظاہرے ہوئے۔

سندھ ٹی وی کے صحافی اور تجزیہ نگار فیاض نائچ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ٹوٹا ہے اور اس بات کا قیادت کو احساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان وڈیروں، سرداروں یا جاگیردوں کو پارٹی ٹکٹ دیے گئے ہیں، جن کا ذاتی یا خاندانی ووٹ بینک ہے۔

’یہ تیکنک جنرل پرویز مشرف نے استعمال کی تھی، آج پاکستان پیپلز پارٹی اس کی پیروی کر رہی ہے، اسی وجہ سے پہلے جو سندھ میں پرو پیپلز پارٹی ایکٹو ازم نظر آتا تھا اس میں کمی آئی ہے۔،

سندھ میں دس جماعتی اتحاد کی قیادت تو منظم نظر آتی ہے مگر مقامی سطح پر سوچوں اور خیالات کا ٹکراؤ موجود ہے، تاہم مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ انتخاب والے دن تمام جماعتیں سرگرم ہوں گی اور اپنے اپنے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک لائیں گی۔

تجزیہ نگار شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ سندھ میں قوم پرست جو پیپلز پارٹی مخالف جذبات رکھتے ہیں، ان کی انتخابی سیاست کا فائدہ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ فنکشنل کو زیادہ ہوگا، لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ انتخابات کے حوالے سے کوئی بڑا اپ سیٹ ہوگا۔

اسی بارے میں