کراچی: بم دھماکے میں چھ ہلاک، بارہ زخمی

Image caption کالعدم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے نصرت بھٹو کالونی میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے، جس میں ہسپتال حکام کے مطابق کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکہ جمعرات کی رات کو تقریباً 9:30 بجے ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کے قریب ایم کیو ایم کا دفتر واقع ہے۔

عباسی شہید ہپستال کے ایم ایل او ڈاکٹر سرور چنا نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی لاشیں عباسی شہید ہپستال لائی گئیں ہیں جن میں سے چار لاشیں جبکہ ایک کا صرف سر لایا گیا ہے۔ جبکہ ایک زخمی بعد میں چل بسا۔

ڈی آئی جی طفر عباسی بخاری کا کہنا ہے کہ دھماکہ حیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا جو ایم کیو ایم کے دفتر کے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے پولیس کو ایک کار پر شبہ تھا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ بم موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ دھماکے میں چار سے پانچ کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ دو روز پہلے بھی ایم کیو ایم کے انتخابی دفتر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے تمام انتخابی دفاتر بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ایم کیو ایم کے رہنما قمر منصور کا کہنا ہے کہ تخریب کاری کا نشانہ بننے والا یونٹ آفس بند تھا اور دھماکے کے وقت علاقے کے لوگ موجود تھے۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دریں اثنا ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے انتخابی دفتر کے قریب دھماکے کے خلاف جمعے کو سندھ میں یوم سوگمنانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف تمام تر کاروبار بند رکھیں۔

اسی بارے میں