انتخابی مہم میں نئے صوبوں کا معاملہ نظر انداز

Image caption بعض سرائیکی تنظیمیں گیارہ مئی کے انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں

پاکستان کے جنوبی پنجاب میں چند ماہ پہلے تک نئے صوبے بنانے کا نعرہ انتہائی گرم تھا لیکن جس طرح توقع کی جارہی تھی اس کے برعکس اب انتخابی مہم میں اس کا کوئی عمل دخل نظر نہیں آتا بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس ایشو پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

سرائیکی وسیب یا سرائیکی خطے کے بڑے بڑے شہروں ملتان، بہاولپور، بہاولنگر ، جھنگ، لودھراں ، لیہ، وہاڑی اور رحیم یار خان میں چند ماہ قبل تک نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ خاصا عروج پر تھا۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے الیکشن سے پہلے صوبوں کے معاملے پر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کےلیے اس کو خاصا ہوا دیا ہوا تھا جبکہ ان پارٹیوں کے رہنماؤ ایک دوسرے پر تنقید اور الزامات بھی لگاتے رہے۔ لیکن پھر اچانک اس غبارے سے جیسے ہوا نکل گئی اور ہر طرف ایک خاموشی سی چھا گئی۔

لیکن اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ا ب جبکہ انتخابی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے ایسے میں سیاسی جماعتوں کو اچانک صوبے کے ایشو پر چپ سی کیوں لگ گئی، وہ اس معاملے پر بات کیون نہیں کررہے ؟

ملتان میں سرائیکی زبان کے اخبار جھوک کے مدیر اعلیٰ ظہور دریجہ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں جس طرح سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے صوبوں کے معاملے پر سیاست کی اس سے لوگ بہت مایوس ہوگئے ہیں۔

’یہاں کے لو گ سمجھتے ہیں کہ سیاسی پنڈتوں نے ان سے سرائیکی صوبہ بنانے کی ایشو پر دھوکہ کیا کیونکہ دونوں جماعتیں صوبے کی تشکیل میں مخلص نہیں تھیں بلکہ یہ سارا ڈرامہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کےلیے کیا جا رہا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ عوام یہ کہتے ہیں کہ پی پی پی کے پاس اسمبلیوں میں اکثریت ہی نہیں تھی لیکن پھر بھی سیاست چکمانے کےلیے اس نے صوبے بنانے کا نعرہ لگایا جبکہ نوازگروپ تو پہلے ہی پنجاب کی تقسیم کی شدید مخالفت تھی۔

ان کے بقول سیاسی جماعتیں صوبوں کے ایشو پر اس لیے بات نہیں کررہی کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ لوگ تو ان کے ارادوں سے واقف ہوچکے ہیں، اگر وہ اس مرحلے پر صوبے بنانے کا نعرہ لگائی گی تو پھر یہ امکان بھی موجود ہے کہ الٹا یہ ایشو ان کے گلے نہ پڑ جائے یعنی اس کا منفی نتیجہ نہ نکل آئے۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے دو دن قبل بہالپور میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کیا لیکن وہاں انہوں نے پنجاب میں صوبے بنانے پر کوئی بات نہیں کی بلکہ وہ توانائی بحران، بے روزگاری اور دیگر مسائل پر بولتے رہے۔

صوبوں کے ایشو پر پیش پیش رہنے والی جماعت پیپلزپارٹی نے بھی اب اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ میں خود ملتان میں ایک دن سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی کے ساتھ ان کے حلقے میں گھوما پھیرا جو قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاباب لڑ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کسی جگہ بھی ووٹروں سے ملاقات یا کارنر میٹنگ میں صوبے بنانے یا نہ بنانے کی بات نہیں کی۔

Image caption مظہر امام کہتے ہیں کہ پی پی پی اور نون لیگ نے جنوبی پنجاب کے عوام کے سارے امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے

علی موسیٰ گیلانی سے جب اسکی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ انتخابی مہم میں صوبوں کے معاملے پر بات نہیں ہورہی لیکن چونکہ ان کی پارٹی نے سب سے پہلے پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کی بات کی لہٰذا انہیں تو یقین ہے کہ لوگ انہیں ووٹ ضرور دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ آج کل ووٹر ان سے صوبے سے زیادہ روزگار اور نوکریاں مانگ رہے ہیں، بجلی نہ ہونے کی شکایت کررہے ہیں اور دیگر مطالبات کررہے ہیں۔

جنوبی پنجاب میں گزشتہ تین چار دہائیوں سے سرائیکی قوم پرست تنظیمیں علیحدہ صوبے کےلیے ایک پرامن جدوجہد کر رہی ہیں تاہم یہ تنظیمیں زیادہ طاقت نہیں سمجھی جاتی۔ لیکن اس تحریک کو دوبارہ جان اس وقت ملی جب چند ماہ قبل نئے صوبوں کا نعرہ بلند کیا گیا۔

بعض سرائیکی تنظیمیں صوبے بنانے کے معاملے پر سیاسی رہنماوں کے چالوں سے انتے مایوس ہوچکی ہیں کہ وہ گیارہ مئی کے انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں۔ ان میں شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کی تنظیم سرائیکستان قومی کونسل بھی شامل ہے۔ اس تنظیم کے ایک نوجوان رہنما مظہر امام نے بی بی سی کو بتایا کہ پی پی پی اور نون لیگ نے جنوبی پنجاب کے عوام سے دھوکہ کرکے ان کے سارے امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں احتجاجاً اس الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال رہا کیونکہ ان رہنماؤں کو ووٹ دینا ووٹ کی توہین ہے اور یہ اس لائق نہیں کہ ان کو ووٹ جیسے قیمتی امانت سپرد کی جائے۔‘ ان کے مطابق ان کے تنظیم کے تمام افراد بطور احتجاج انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے رہے۔

اسی بارے میں