کراچی: اے این پی کے رہنما پر بم حملہ، 11 ہلاک

Image caption اے این پی کے رہنما بشیر جان کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان پر بم حملے میں گیارہ افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے۔

زخمیوں میں سے آٹھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی بم حملے کے خلاف سنیچر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں یوم سوگ منا رہی ہے۔

اے این پی کے مطابق کاروبارِ زندگی متاثر نہیں ہوگی اور دکانیں اور ٹرانسپورٹ کھلی ہونگی۔

دریں اثناء بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی کراچی میں نمازِ جنازہ ادا کی دی گئی ہے۔

یہ واقعہ جمعے کی رات کو ساڑھے نو بجے کے قریب سائٹ کے علاقے بسم اللہ کالونی میں پیش آیا۔

پولیس سرجن اسلم پیچویو کے مطابق اس بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے جبکہ زخمی افراد کی تعداد پینالیس ہے۔

کراچی میں ہمارے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق سات لاشیں سول ہپستال تین عباسی شہید ہسپتال اور ایک لاش جناح ہسپتال پہنچائی گئی ہے۔

زخمیوں میں سے بیس عباسی، چودہ قطر ہسپتال اور چھ سول ہپستال لائے گئے ہیں، جہاں ایم ایل او کے مطابق آٹھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان کا جو حالیہ انتخابات میں پی ایس 93 سے امیدوار ہیں کہنا ہے کہ وہ ایک دوست کے ساتھ ملنے جا رہے تھے کہ ان کی گاڑیوں کے قافلے میں دھماکہ ہواجس میں وہ محفوظ رہے لیکن ان کے ساتھی اور آس پاس کے لوگ شدید زخمی ہوگئے ہیں اور انہیں کارکنوں نے ایک دوسری گاڑی میں محفوظ جگہ پر پہنچایا ہے۔

دوسری جانب سول ہپستال میں ایک زخمی انور زیب کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت سو سے زائد لوگ جمع تھے، انہوں نے ایک گھر کے اندر کارنر میٹنگ کا انتظام کیا تھا، جیسے ہی بشیر جان پہنچے تو پہلے فائرنگ کی آواز آئی جس کے بعد دھماکہ ہوا۔

واضح رہے کہ بسم اللہ کالونی اورنگی اور سائیٹ ٹاؤن کے سنگم پر واقعے ہے، اس علاقے میں رہائشی علاقے کے ساتھ چھوٹے کارخانے بھی ہیں، زیادہ تر لوگ مزدور پیشہ افراد ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی یہاں مقبول جماعت رہی ہے۔

Image caption تحریکِ طالبان نے کراچی کے کچھ علاقوں میں پمفلیٹ تقسیم کیے ہیں جن میں جمہوریت کو کفر کا نظام قرار دیا گیا ہے

یاد رہے کہ اس سے پہلے جمعہ کی صبح لانڈھی کے علاقے میں اے این پی کے امیدوار عبدالرحمان پر کریکر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دریں اثنا کالعدم تحریکِ طالبان نے کراچی کے کچھ علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جن میں جمہوریت کو کفر کا نظام قرار دیا گیا ہے اور لوگوں کو جلسوں اور پولنگ سٹیشنوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

تحریکِ طالبان کی جانب سے اس پمفلٹ میں دس نکات دیےگئے ہیں جس کی ابتدا خواتین کے ووٹ ڈالنے پر اختلاف سے ہوتی ہے۔

پشتون آبادی میں تقسیم کیے گئے اس پمفلٹ میں جمہوریت اور اسلامی نظام کے حوالے سے مزید بات کی گئی ہے۔

کالعدم تحریکِ طالبان کا موقف ہے کہ ووٹ امانت نہیں ہے کیونکہ یہ امانت نہ اللہ تعالٰی نے بندوں کے پاس رکھی ہے اور نہ کسی بندے نے کسی کے پاس امانت رکھوائی ہے لہذٰا اسے امانت کہنا امانت کے لفظ کے ساتھ مذاق ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے دو انتخابی دفاتر پر بم حملے کیے گئے ہیں جبکہ لانڈھی اور سائٹ کے علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک امیدواروں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں