کھیل کے میدان سے سیاست کے میدان تک

پاکستان میں سابق کھلاڑیوں کا انتخابی میدان میں طبع آزمائی کرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن اس مرتبہ جہاں کوئی کھلاڑی کئی برس کے بعد انتخابی میدان میں اترا ہے وہیں کچھ پرانے کھلاڑی اس میدان کو ہی چھوڑے بیٹھے ہیں۔

ہاکی کے سابق کپتان اختر رسول سولہ برس کے بعد دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ ان کے ہی ساتھی قاسم ضیاء نے سولہ سال کے بعد پہلی بار انتخاب میں حصہ نہیں لیا ہے۔

سابق کرکٹر سرفراز نواز اور عامر سہیل کے انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے کے بعد عمران خان واحد کرکٹر ہیں جو اپنی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ ہوتے ہوئے عام انتخابات میں بطور امیدوار سرگرم ہیں۔

چودھری اختر رسول لاہور سے پنجاب اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز سے اپنی عملی سیاست کا آغاز کرنے والے اختر رسول نے آخری بار انیس سو ستانوے میں انتخاب لڑا تھا۔

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان تین مرتبہ لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی رہے۔

چودھری اختر رسول بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ ق میں شامل ہوگئے تھے لیکن سپریم کورٹ پر حملے کے کیس کی وجہ سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے اور اسی وجہ سے وہ انتخابی سیاست سے نااہل ہوگئے۔

اس کے برعکس ہاکی کے نامور کھلاڑی قاسم ضیاء انیس سو ترانوے سے مسلسل ہر انتخاب میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر لاہور سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے طور میدان میں اترے رہے ہیں۔

تاہم اس مرتبہ انہوں نے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا جس کی وجہ بتاتے ہوئے قاسم ضیاء کا کہنا ہے کہ ان کا اس بار انتخاب لڑنے کا موڈ نہیں تھا۔

قاسم ضیاء دو مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزب مخالف اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

سابق کرکٹر سرفراز نواز نے پچیس برس کے بعد دوبارہ انتخابی سیاست کا رخ کیا اور گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی طرف اسی حلقے میں کاغذات نامزدگی بھی جمع کرائے جہاں سے عمران خان نے انتخاب لڑنا تھا۔

تاہم سرفراز نواز نے بعد میں اپنے کاغذات واپس لے لیے جس پر ان کے بقول ان کے اس فیصلے سے ان کی جماعت کو بھی مایوسی ہوئی تاہم انہیں ایسا فیصلہ اپنی بیماری کے باعث کرنا پڑا۔

سرفراز نواز کے مطابق انہوں نے اپنی آنکھوں کا آپریشن کرایا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا تھا اس لیے ان کے ممکن نہیں تھا کہ وہ اپنی انتخابی مہم چلا سکتے۔

سابق کرکٹر سرفراز نواز انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنے تاہم انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر ناکام ہوگئے۔

سرفراز نواز نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان اپنی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ ہیں اور قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔عمران خان نے آخری مرتبہ دو ہزار دو انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اپنے آبائی علاقے میانوالی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

قومی کرکٹ میں بائیں بازو سے کھیلنے والے سابق اوپنر عامر سہیل نے گزشتہ برس مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم ان کے بقول ان کا انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

کھیلوں کے سینیئر صحافی زاہد مقصود کا کہنا ہے کہ کھلاڑی قومی ہیرو بھی ہوتا ہے اس لیے جب کوئی کھلاڑی انتخاب لڑتا ہے تو لوگوں کی خاصی حد تک ان کے ساتھ ہمددریاں ہوتی ہیں اور وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

زاہد مقصود کے مطابق کھلاڑیوں کے غیر سیاسی ہونے کے باوجود جب ان کے ساتھی کھلاڑی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ان کی مہم سے دور نہیں رہتے۔

قومی کرکٹ کے کھلاڑی شاہد آفریدی نے گزشتہ دنوں لاہور میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف سے تعزیت کی اور اب ان کی طرف یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ وہ عمران خان کے جلسے میں بھی شرکت کریں گے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان حیفظ کاردار وہ پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے سیاست میں حصہ لیا اور انیس سو ستر میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور پھر صوبائی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہوئے۔

اسی بارے میں