بلوچستان:اساتذہ کا الیکشن ڈیوٹی سے انکار

Image caption سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اساتذہ نے خانہ شماری کا کام کرنے سے بھی معذوری ظاہر کی تھی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اساتذہ نے صوبے کے شورش زدہ اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن ڈیوٹی دینے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

صوبے میں اساتذہ کی سب سے بڑی تنظیم گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جن گیارہ اضلاع میں ڈیوٹی دینے سے معذوری ظاہر کی گئی ہے ان میں مکران اور قلات ڈویژن کے اضلاع کے علاوہ کوئٹہ ڈویژن کے دو اضلاع نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سیکرٹری جنرل قاسم خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کو باقاعدہ ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا قلات ڈویژن میں ضلع لسبیلہ کے سوا باقی گیارہ اضلاع میں اساتذہ کو کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے الیکشن ڈیوٹی دی تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے اور انہیں جان سے کوئی چیز زیادہ عزیز نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان دھمکیوں کے باعث بلوچستان حکومت کو کہا گیا ہے کہ ان اضلاع کے 18 ہزار اساتذہ ڈیوٹی دینے سے قاصر ہیں جبکہ باقی اضلاع میں استاتذہ الیکشن ڈیوٹی دیں گے۔

اس سے قبل انہی خدشات کی بنیاد پر اساتذہ نے بلوچستان کے شورش سے متاثرہ علاقوں میں خانہ شماری کا کام کرنے سے بھی معذوری ظاہر کی تھی۔

دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کی شب ضلع کیچ میں نیشنل پارٹی کے امیدوار عظیم بلیدی کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا۔عظیم بلیدی کیچ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے امیدوار ہیں۔

کیچ انتظامیہ کے مطابق نامعلوم افراد نے ان کے گھر پر دستی بم بھینکا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کوئٹہ کے علاقے سریاب میں بھی نامعلوم افراد نے نیشنل پارٹی کے ایک انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا اس حملے میں کو ئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ جمعہ کو بولان کے علاقے میں راکٹ حملے میں جے یو آئی (ف) کے امیدوار میر محمد ہاشم شاہوانی کے قافلے پر راکٹ حملے اور فائرنگ سے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں