کراچی:دھماکوں میں ہلاکتوں پر سندھ میں سوگ

Image caption کراچی میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران سات دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکیس ہوچکی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سنیچر کو دارالحکومت کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر کے باہر اور پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسے کے مقام پر ہونے والے دھماکوں میں 3 افراد کی ہلاکت پر اتوار کو یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔

اس یومِ سوگ کا اعلان متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کیا گیا تھا اور سوگ کے موقع پر کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں نظامِ زندگی معطل ہے۔

اتوار کو ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے کراچی میں کاروباری سرگرمیاں ویسے ہی بند ہوتی ہیں تاہم ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی میں انتخابات کے سلسلے میں جاری سیاسی سرگرمیوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور سنیچر کی شب دو مقامات پر تین دھماکوں میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سمیت درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

پہلا دھماکا کراچی کے علاقے قصبہ کالونی میں متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر کے قریب رات ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ اسی مقام پر دوسرا دھماکا کریکر سے کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما قمر منصور کے مطابق جس جگہ دھماکا ہوا وہاں ان کی تنظیم کا یونٹ آفس 132 واقع ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں تنظیم کے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ایم کیو ایم نے ایک ہفتے سے اپنے دفاتر بند کر رکھے ہیں۔

ان دو دھماکوں کے کچھ دیر بعد لیاری کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق رکن قومی اسمبلی عزیز میمن کے انتخابی جلسے کے قریب ایک اور دھماکا ہوا۔

عزیز میمن این اے 249 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں اور انہوں نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں وہ خود بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ہاتھوں اور پیروں پر زخم آئے ہیں، ان کے علاوہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ دھماکے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار عدنان بلوچ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں لیاری جنرل ہپستال منتقل کیاگیا ہے۔

امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ این اے 249 کے امیدوار عزیز میمن کا جلسہ جاری تھا کہ جہاں خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے وہاں دھماکہ ہوا۔ جس کے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر اسلم پیچوہو کا کہنا ہے کہ لیاری دھماکے میں ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ نو زخمیوں کو سول ہسپتال کراچی لایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں طالبان نے متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہوئی ہے اور طالبان نے اس تناظر میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود ان سیاسی تنظیموں نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اے این پی کے رہنما شاہی سید نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے اعلامیے مطابق رابطہ کمٹی کے اراکین نے تنظیم کے سربراہ الطاف حسین سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں اور ان حملوں کے باوجود ایم کیو ایم کسی قیمت پر اپنے جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں