آندھی کا رجز، ایک نیا شعری باطن

احمد جاوید تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آندھی کے رجز میں اقبال کی خطیبانہ گونج بھی سنائی دیتی ہے اور کہیں کہیں حبیب جالب کی مس فٹ نعرے بازی

نام کتاب: آندھی کا رجز

مصنف: احمد جاوید

صفحات: 192

قیمت: 300 روپے

ناشر: شہرزاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

شعری اظہار بہر صورت فرد کی ذات سے منسلک ہوتا ہے۔ اسی سے اسلوب بناتا ہے اور اسی سے پہچان کو ممکن بنانے والے عوامل کو شکل دیتا ہے۔

اس کا اطلاق شعر پر ہی نہیں ہر تخلیق پر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہر فرد کو اپنی انفرادیت تک رسائی کی سہولت آسانی سے ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل اور پہلا مشکل مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ ہر فن کا اظہار کرنے والا اپنے آپ تک رسائی حاصل کرے۔ اپنی انفرادیت کو ڈھونڈے۔

جنھیں ہم فطری تخلیق کار کہتے ہیں انھیں بہ وجوہ یہ سہولت نسبتاً جلد حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہم آہنگی کے تناسب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے، کسی نوع کی ودیعیت نہیں ہوتی۔ ودیعیت کا مفروضہ ایک عقیدہ ہے اور ایک الگ جغرافیہ رکھتا ہے۔

انسان کی سب سے بڑی ایجاد زبان، محض زبان نہیں، مسلسل پابند اور منقلب کرنے والی ایسی قوت ہے جو سماجی مسلمات، رد و قبول، روایت و وراثت سے مسلح ہوتی ہے اور ہر مرحلے پر فرد کو نئی سے نئی پابندیوں میں باندھتی ہے اور نئے سے نئے تقاضوں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

احمد جاوید کی شاعری پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مہارت اور تکنیک کو جذبات پر ترجیح دیتے ہیں اور موجودہ زبان کو ایک نیا پیرایہ دینے میں کوشاں ہیں۔

ان کے ہاں آپ کو سینٹ جان پرس اور اقبال کی خطیبانہ گونج بھی سنائی دے گی اور کہیں کہیں حبیب جالب کی مس فٹ نعرے بازی بھی۔ موجودہ نظموں میں وہ جدیدیت کے مخالف بھی نظر آتے ہیں، محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کے معنوں میں۔

سینٹ جان پرس نثری نظم کا وہ پہلا شاعر تھا جسے نوبل انعام پیش کیا گیا۔ جس نے کسی اور فارم کو اپنے اظہار کے لیے مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن وہ کیونکہ زود ہضم نہیں تھا اس لیے اس کے اسلوب کے قریب جانے کی کوشش بھی بہت کم لوگوں نے کی یہاں تک کے نقادوں نے بھی اس بھاری پتھر کو چوم کر دور رکھ دیا کیونکہ اس کے ہاں خالص شعریات کی تجسیم ہوتی ہے۔ اس کا اسلوب ایک خاص خطابت سے عبارت ہے۔

احمد جاوید کو بت شکنی کا شوق ہے، جس کے لیے انھوں نے اپنے حریف طے کیے ہیں اور بجز کچھ نظموں کے ہر نظم میں ایک ایک کر کے ان پر حملہ آور ہوتے اور بعض پر تو بار بار ہوتے اور اپنے تعیں انھیں مسمار بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ جنگ کہیں باہر نہیں خود ان کے اندر ہی جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں سے ہمیشہ کوئی بے حد اہم چیز رہ جاتی ہے۔(اس لیے) اب بالکل نیا تناظر ضروری ہے، اس نادیدنی عہد سے عہدہ برا ہونے کے لیے ورنہ تو دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسے آنکھیں مانتی ہیں۔ لیکن آنکھیں، خواہ بینائی کی کسی بھی قبیل سے تعلق رکھتی ہوں، ایسے پیچیدہ منظر کو صحت اور ثقاہت (قابلِ اعتبار انداز) کے ساتھ نقل نہیں کر سکتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ مجموعہ ایک نئی شعریت کی بنیاد ہوگا

یہ بات وہ کر رہے ہیں اُن خرابوں کے بارے میں جن کی عظیم ترین صناع ہوائیں ہیں اور جو ایک پراسرار، غیر معروف اندھیرے کی دبیز دیواروں پر بے رنگی کے ساتھ نقش ہیں۔

یہ اس مجموعے میں شامل نظم ’ایک خیال‘ کی ترتیب میں تبدیلی ہے۔ صرف ’تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں‘ کی کمزوری کو کچھ دیر کے لیے بھول جائیے باقی نظم کو دیکھیے اور بتائیے اس سے پہلے اردو میں ایسا اسلوب کہاں ہے؟

میں نے جو بات پہلے کی تھی وہ اسی اسلوب کے حوالے سے کی تھی۔ مجھے اسلوب کے اس شکوہ میں سینٹ جان پرس اور اقبال کا اتصال لگتا ہے جو محض نقالی نہیں ہے۔ ورنہ تو پرس کے اسلوب کو برتنے کی کوشش تو سب سے پہلے انیس ناگی نے کی تھی اور اقبال کے انداز کے پیرو کار تو ان گنت ہیں جو تاریخی شعور کی کمی اور علمی فقدان کے سبب ان کے لسانی آہنگ کی بازگشت سے آگے نہیں نکل پاتے۔

آندھی کا رجز میں شاعر میں یقین کی بے اندازہ موجودگی نے شعری باطن کو از حد نقصان دیا ہے۔ شاعر لاکھ کہتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ خود کو ایک احمقانہ ’میں‘ کے شکستہ نقاب سے وابستہ رکھے لیکن اس کے لیے راہِ مفر نہیں ہے۔

پانچ نظموں کو چھوڑ باقی باون نظموں کا اسلوب، پرس کو بھول بھی جائیں تو، اردو میں کسی کی پیروی نہیں، خود اپنی ایجاد ہے۔ یہی شاعری کی پہلی شرط ہے۔

مجھے اندیشہ ہے کہ چند ایک نظموں کے علاوہ اکثر نظمیں پڑھنے والوں سے بہت سی تیاری کا تقاضا کریں گی اگر یہ مجموعہ مقبول ہو گا تو یقیناً ایک نئی شعریت کی بنیاد ہو گا۔ لیکن شاعری سے سنجیدہ تعلق رکھنے والوں کے لیے اس مجموعے کا مطالعہ لازمی ہے۔

احمد جاوید نے شیخ محی الدین العربی کی ایک کتاب اور اقبال کے دو فارسی مجموعوں پیام مشرق اور جاوید نامہ کو اردو میں منتقل کرنے کے علاوہ اردو کے کئی شعرا کے انتخاب کیے ہیں جو الگ الگ کتابوں کی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ فارسی اور انگریزی میں بھی شاعری کرتے ہیں۔ انھیں فلسفے اور خاص طور پر اسلامی فلسفہ سے گہری دلچسپی ہے۔ وہ 1985 سے اقبال اکادمی لاہور کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ٹی وی کے کئی پروگراموں سے بھی انھیں خاص شہرت حاصل ہے۔

مختصراً آپ انھیں ایسا نیا ترقی پسند بھی سمجھ سکتے ہیں جو استعمار مخالف ہے اور مذہب و تصوف کی بظاہر متحارب روایات کو بھی یکجا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب کو جیکسن پولاک کی جس پینٹنگ سے آراستہ کیا گیا ہے وہ بھی خالی از معنی نہیں ہے۔