’شدت پسندی:سویلین خفیہ اداروں سے وضاحت طلب‘

Image caption پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

وفاقی حکومت نے سویلین خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ملک بھر میں شدت پسندی کے واقعات سے متعلق پیشگی اطلاع اور اُن کے پیچھے کارفرما عوامل کا سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا۔

اس کے علاوہ جن تنظیموں کے بارے میں نگراں حکومت کے قیام سے پہلے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ وہ عام انتخابات اور انتخابی مہم کے دوران اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گی، اُن کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا سکی۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں وزارتِ داخلہ میں انتیس اپریل کو اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں انٹیلیجنس بیورو کے ڈویژنل سطح کے افسران شرکت کریں گے جبکہ اس اجلاس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے افسران بھی شرکت کریں گے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری چند ماہ کے دوران تین سے زائد سویلین انٹیلیجنس اداروں کے افسران اور اہلکاروں کو غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر ایک صوبے سے دوسرے صوبوں میں بھیج دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے گُزشتہ دو ہفتوں کے دوران وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی متعدد رپورٹس میں کالعدم تنظیموں بلخصوص تحریک طالبان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہیں تاہم اس ضمن میں اُن افراد اور عوامل کی نشاندہی نہیں کی گئی جو اُن تنظیموں کے لیے سہولت کار ہیں تاکہ اُن افراد کے خلاف کارروائی کر کے ایسے واقعات کو کسی حد تک روکا جا سکے۔

انتخابی مہم کے دوران سابق حکمراں اتحاد میں شامل جماعتیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ شامل ہیں، کے جلسوں اور کارنر مینٹگ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان واقعات میں سے بعض کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

Image caption شدت پسندی کی تازہ لہر میں سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

یاد رہے کہ گُزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک بھر میں شدت پسندی کے 35 سے زائد واقعات ہو چکے ہیں اور ان واقعات میں ملوث افراد کی گرفتاری ممکن ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں انتخابی مہم کے دوران شدت پسندی کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ اُن محرکات کا جائزہ لینے کے لیے خفیہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ اُن سے شدت پسندی کے واقعات کے سدباب کے لیے تجاویز بھی لیں۔

اہلکار کے مطابق ان افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں جو بھی شدت پسند یا کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں اُن کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور اس کے علاوہ اُن کی کارروائی کے طریقۂ کار کے بارے میں بھی آگاہ کریں تاکہ اس ضمن میں مناسب کارروائی کے لیے صوبوں کو ہدایات جاری کی جا سکیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ عام انتخابات کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیں اور جہاں پر خامیاں ہیں اُن کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

اسی بارے میں