ووٹ ’بی بی رانی‘ کا

Image caption بدین میں پیپلزپارٹی کی مضبوطی کا کریڈٹ کافی حد تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جاتا ہے

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے انتخابات کی کوریج کے لیے جنوبی سندھ کے انتخاب کی ایک ہی وجہ تھی کہ صوفیوں کی اس سرزمین کے رنگوں کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا جائے۔

اب جبکہ انتخابات میں محض چند روز باقی ہیں تو وہاں جاری انتخابی سرگرمیوں اور عوامی تبصروں کی روشنی میں حالیہ سیاسی رجحانات کا جائزہ لیا جائے۔

پہلی منزل کراچی تھی تاہم پی آئی اے کی مہربانی سے پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ ایئرپورٹ سے سیدھا حیدر آباد کا رخ کیا لیکن سڑک کی حالت ایسی تھی کہ سخت تھکن کے باوجود دو منٹ کو بھی اونگھنا ممکن نہ ہوا۔

وقتاً فوقتاً میرے بھنّانے سے میرے ڈرائیور حاجی عرب جن کا تعلق سکھر سے تھا اور جو اندرون سندھ میں 19 برس سے گاڑی چلا رہے ہیں مسکرانے لگے اور کہا ’بی بی تم پنجاب سے آئی ہو نہ، تمھیں موٹر وے پر سفر کرنے کی عادت ہے اس لیے اتنی ناگواری ہو رہی ہے۔ یہاں تو تقریباً سب سڑکیں ایسی ہی ہیں‘۔

رات گئے حیدرآباد پہنچے یہ شہر جو سندھی قوم پرستوں کا نظریاتی گڑھ سمجھا جاتا ہے، یہاں لسانی تقسیم بہت واضح ہے کچھ علاقوں میں اردو بولنے والے اور کچھ میں سندھی آباد ہیں لیکن بہت عرصے سے یہاں لسانی رنجش کا واقعہ رونما نہیں ہوا اور مجموعی طور پر شہر کا ماحول پرسکون ہے۔

آٹو بھان کا علاقہ شہر کا معروف کاروباری مرکز ہے۔ ملک میں موجود شاید ہی کسی بڑے برانڈ کی شاخ یہاں موجود نہ ہو لیکن یہ سڑک جگہ جگہ سے کھدی پڑی ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق یہ سڑک کئی برسوں سے زیرِ تعمیر ہے اور یہی نہیں بلکہ پورے شہر کا یہی حال ہے کئی ترقیاتی منصوبے ادھورے پڑے ہیں جو پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کی ’گڈگورننس‘ کی گواہی دے رہے ہیں۔ حیدرآباد کی صورت حال دیکھ کر حاجی عرب کی بات سچ لگنے لگی۔

حیدر آباد میں جگہ جگہ قوم پرست جماعتوں کے جھنڈے اور پوسٹرز دکھائی دیتے ہیں۔ ایاز پلیجو جو قوم پرست جماعتوں کے مرکزی رہنما ہیں، حیدرآباد کی نشست سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہاں دس قوم پرست جماعتوں نے پیر پگاڑا کی فنگشنل لیگ اور مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلز پارٹی کےخلاف انتخابی اتحاد بنا رکھا ہے۔ ایاز پلیجو کی انتخابی مہم بھی زوروشور سے جاری ہے لیکن مقامی افراد سے جب بھی پوچھا جائے کہ ووٹ کس کو دیں گے تو جواب ملتا ہے ’بی بی رانی ‘ یعنی بے نظیر بھٹو کو۔

حیدرآباد سے نکلے تو پورے شہر میں ہو کا عالم تھا۔ کراچی میں متحدہ کی انتخابی مہم کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کی کال پر شہر مکمل طور پر بند دکھائی دیا۔ ہڑتال مجموعی طور پرامن تھی تاہم کئی چوراہوں میں مظاہرین نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔

حیدرآباد کے بعد اگلا پڑاؤ تھا بدین تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو سنہ 2010 کے سیلاب میں مکمل طور پر ڈوب گیا تھا اور یہاں ابھی کئی آبادیاں ایسی ہیں جو مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکیں ۔

بدین میں دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست پر تین خواتین آمنے سامنے ہیں جن میں پیپلزپارٹی کی فہمیدہ مرزا، فنکشنل لیگ کی بی بی یاسمین شاہ اور آل پاکستان مسلم لیگ کی پارس بی بی شامل ہیں۔ بدین جیسے علاقے سے عام نشست پر تین خواتین کا ٹاکرا کافی دلچسپ لگا۔

بدین میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت کے باعث یہاں وحدت مسلمین نے بھی اپنے نمائندوں کو انتخابات میں کھڑا کیا ہے۔ روایتی طور پر شیعہ برادری کا ووٹ ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا کو جاتا تھا لیکن اب شاید یہ ووٹ کچھ حد تک تقسیم ہو لیکن پھر بھی بدین میں پیپلزپارٹی ہی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔

بدین میں پیپلزپارٹی کی مضبوطی کا کریڈٹ کافی حد تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جاتا ہے۔

بدین میں ایسے بہت سے افراد سے ملاقات ہوئی جو صاف گوئی سے یہ بتاتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کو ووٹ اس لیے دیں گے کہ انھیں بےنظیر کے نام سے ماہانہ وظیفہ ملتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدین میں مخالفین کی جانب سے فہمیدہ مرزا پر قرضے معاف کروانے اور کرپشن کے الزامات سے ووٹرز کو زیادہ فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔

بدین کے بعد ہماری اگلی منزل عمر کوٹ تھی۔ یہ ضلع جہاں آبادی کے حساب سے اقلیت اکثریت میں ہے۔ ہندو اکثریتی اس ضلع میں بھی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ایک دلچسپ انتخابی معرکہ متوقع ہے۔

ویسے تو اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی کامیابی کے لیے انتہائی پراعتماد دکھائی دے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے امیدوار بہت زوروشور سے انتخابی مہم نہیں چلارہے تاہم عمرکوٹ میں صورت حال مختلف ہے یہاں پی پی پی کے یوسف تالپورکا مقابلہ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی سے ہے جن کے مریدین کی بہت بڑی تعداد اس حلقے میں موجود ہے۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کا پورا زور پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں لگا رکھا ہے اور سندھ میں کہیں بھی پی ٹی آئی کا نام ونشان نظرنہیں آتا تاہم اگر عمر کوٹ کو دیکھا جائے تو یہ تحریک انصاف کے جھنڈوں اور پوسٹرز سے بھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ نتیجہ جو بھی ہو یہاں مقابلہ دلچسپ ہوگا۔

اسی بارے میں