’مناسب ٹرن آؤٹ کی توقع کر رہے ہیں‘

Image caption تمام ریاستی ادارے، جن میں فوج بھی شامل ہے، انتخابی عمل کو کامیاب بنانے پر متفق ہیں: وزیر اطلاعات عارف نظامی

پاکستان میں نگراں حکومت کو خدشہ ہے کہ گیارہ مئی کو پولنگ کے دن تک ملک میں جاری تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے لہٰذا وہ’مناسب ٹرن آؤٹ‘ کی توقع کر رہے ہیں۔

نگراں وفاقی وزیرِاطلاعات عارف نظامی نے غیرملکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانا اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ایسے میں نگراں وزیر اطلاعات نے اعتراف کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کے برابر مواقع فراہم نہیں کیے جا سکتے لیکن وہ پرامن انتخابات کے لیے اپنے اختیار کے مطابق ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔

وزیر اطلاعات عارف نظامی کا کہنا تھا کہ تمام ریاستی ادارے، جن میں فوج بھی شامل ہے، انتخابی عمل کو کامیاب بنانے پر متفق ہیں اور اس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

’ہم نے سکیورٹی بڑھا دی ہے اور اس بابت فوری ردعمل کے یونٹ تیار کیے گئے ہیں جو کسی بھی صورتِحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی ذمہ داریوں میں فوج بھی شریک ہو گی لیکن وہ اس کی تعداد ابھی بتانے سے قاصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند امیدواروں کو نشانہ بنانا چاہ رہے ہیں لیکن اس میں ابھی کوئی کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق ایک سوال کے جواب میں کہ تشدد کا ووٹر ٹرن آؤٹ پر کتنا منفی اثر پڑ سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اثر ہو سکتا ہے لیکن گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ امیدواروں کی تعداد دگنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے امکان ہے کہ ٹرن آؤٹ بہتر ہو۔ تاہم کا کہنا تھا کہ وہ’ڈیسنٹ ٹرن آؤٹ‘ کی توقع کر رہے ہیں۔

غیرملکی صحافیوں کے ویزوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں ایک ہفتے کا جاری کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تاہم ان کی مداخلت کے بعد اسے اب ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

بھارتی صحافی کی جانب سے سوال پر کہ غیرملکی صحافیوں کو 20 شہروں میں جانے کی اجازت کا اطلاق ان پر بھی ہوگا یا نہیں تو عارف نظامی نے فوراً کہا کیوں نہیں لیکن ساتھ بیٹھی سرکاری اہلکار کی جانب دیکھا تو ہنس پڑے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر نے اپنا جواب تبدیل کیا اور وعدہ کیا وہ اپنی پوری کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں