بائیں بازو کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف متحد

Image caption کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس

پاکستان کے شہر کراچی میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تین جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد تھا۔

کراچی پریس کلب میں تینوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں لیکن وہ پھر بھی چاہیں گے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔

نیوز کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا، ’تینوں سیاسی جماعتوں پر حالیہ حملوں میں ملوث دہشت گرد تنظیمیں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں اور دائیں بازو کی عسکری جماعتیں جو ہر طریقے سے ناکام ہو رہی ہیں اور عوام کو اپنے خلاف جاتا دیکھ رہی ہیں تو وہ طاقت کے زور پر انہیں روکنا چاہتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک طرف وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں اور وہ جماعتیں جن پر دہشت گرد گروپ حملہ کر رہے ہیں اور انتخابی مہم نہیں چلانے دے رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ سیاسی جماعتیں ہیں جن کو دہشت گرد اپنا ضامن کہتے ہیں اور جو بلا روک ٹوک اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا کہ بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتوں میں نظریاتی فرق ظاہر ہوچکا ہے۔

’ایک نظریاتی تقسیم ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ اعتدال پسندوں، روشن خیالوں اور ایک طرف مذہبی جننیوں اور رجعت پسندؤں کی بنیاد پر ایسے واضح طور پر ایسے تقسیم کردیا گیا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ہم تینوں جماعتوں نے اس بات کا مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اِن دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان نے اس موقعے پر کہا کہ دہشت گردی کے واقعات بائیں بازو کی جماعتوں کی حوصلوں کو پست نہیں کرسکتے۔

’ ہم ہر حالت میں الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں لیکن ان حالات کی ذمہ دار دہشت گردوں کے ساتھ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن بھی ہے۔ ہم پاکستان کی ریاست، آزادی اور جمہوریت کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنی کارروائیوں کو ناکام ہوتا دیکھ کر بوکھلا گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے دہشت گردوں کو چھوٹ دے رکھی ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف حکومت کی جانب سے کاروائی نہ کیا جانا تشویشناک ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا کہ پہلی مارچ سے اب تک مختلف دہشت گردی کے واقعات میں 65 سیاسی کارکنان دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بائیں بازو کی تینوں جماعتوں نے فیصلہ کی ہے کہ دہشت گردی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔