پشاور: انتخابی مہم اور تشدد کے واقعات

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ایک جانب اگر انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں تو دوسری جانب تشدد کے واقعات بھی جاری ہیں۔

صوبے میں گذشتہ دو روز میں آٹھ حملے ہوئے جن میں دس افراد ہلاک اور 120 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے اعلان کے بعد سے صوبے کے مختلف شہروں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

پشاور میں کہیں بھی چلے جائیں تو مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے ، بینرز اور پوسٹرز نمایاں نظر آتے ہیں۔ سکیورٹی کے حصار میں مختلف علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں تاہم تشدد کی کارروائیاں شروع ہوتے ہی یہ سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔

دھماکے اور فائرنگ کے واقعات پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں پیش آ رہے ہیں۔

دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ اس صوبے میں بعض آزاد امیدواروں کے علاوہ بیشتر حملے عوامی نیشنل پارٹی پر ہی ہوئے ہیں۔

انتخابات کے اعلان کے بعد سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار ذوالفقار افغانی کے مکان کے ایک حصے میں دھماکا ہوا تھا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اس کے علاوہ صوبے میں پیپلز پارٹی پر کوئی نمایاں حملہ نہیں ہوا۔ دیگر سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ، تحریکِ انصاف، جمعیت علمائے اسلام، جماعتِ اسلامی اور باقی تمام جماعتیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ملک میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد سے ہی پشاور میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور شدت پسند سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ اب انتخابی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

پیر کو پشاور کی مصروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر ہونے والے دھماکے میں دس فراد ہلاک اور 68 زخمی ہوئے۔

گذشتہ روز بھی پشاور کے مضافات میں چارسدہ روڈ پر مقصود آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں بھی تین افراد مارے گئے تھے۔ اس دھماکے کا نشانہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے حلقہ این اے 46 سے امیدوار حاجی ناصر خان آفریدی کا دفتر بنا تھا۔

مصرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک یا دو سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانا اور دیگر تمام جماعتوں کو انتخابات کی مکمل آزادی ہونا انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیتاہے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حالات سے ایسا ہی لگتا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو ہی نشانہ بنا کر اس جماعت کو ان انتخابات کے دوران دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں