پشاور میں خودکش حملہ،’افغان اہلکار سمیت دس ہلاک‘

Image caption ملک میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد سے ہی پشاور میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے مطابق ایک خودکش حملے میں دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 68 افراد زخمی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دس ہو گئی ہے اور ہلاک ہونے والوں میں ایک فری لانس صحافی بھی شامل ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پیر کی صبح یونیورسٹی روڈ پر ایک بس سٹاپ کے قریب ہوا۔

حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ خودکش حملہ آور کا ہدف کچھ اور تھا اور راستے میں بس سٹاپ پر اچانک دھماکا ہوگیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جس جگہ دھماکا ہوا وہاں عموماً صبح کے اوقات میں خاصا ہجوم ہوتا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سابق افغان وزیر قاضی امین وقاد کے بیٹے اور افغان قونصل خانے کے اہلکار قاضی ہلال اور ان کے ایک رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

دھماکے سے بس سٹاپ اور اردگرد کی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اس کے علاوہ وہاں موجود پولیس کی ایک گاڑی بھی تباہ ہوئی۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارکن جائے وقوع پر پہنچے اور لاشوں اور زخمیوں کو شیرپاؤ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا اور سڑک کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

خیال رہے کہ ملک میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد سے ہی پشاور میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور شدت پسند سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ اب انتخابی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

گزشتہ روز بھی پشاور کے مضافات میں چارسدہ روڈ پر مقصود آباد کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں بھی تین افراد مارے گئے تھے۔ اس دھماکے کا نشانہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے حلقہ این اے 46 سے امیدوار حاجی ناصر خان آفریدی کا دفتر بنا تھا۔

اسی بارے میں