’سربجیت سنگھ کی رہائی پر غور کرنے کی اپیل‘

Image caption ہم چاہتے ہیں کہ انہیں یہاں سے منتقل کیا جائے: دلبیر کور

پاکستان کے شہر لاہور کی ایک جیل میں اپنے ساتھیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے سزائے موت کے منتظر بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے انہیں علاج کے لیے پاکستان سے باہر منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔

دریں اثناء بھارتی حکومت نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ سربجیت سنگھ کو انسانی ہمددری کی بنیاد پر رہا کرنے پر غور کرے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سربجیت سنگھ کی حالت بدستور نازک ہے اور موجودہ المناک صورتحال میں ہم ایک بار پھر پاکستان کی حکومت سے اس کیس پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے اور انہیں رہا کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور کی اپیل پر سربجیت کے وکیل اویس شیخ کا کہنا ہے کہ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں بیرونِ ملک لےجانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سربجیت سنگھ بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر ہیں اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ جمعہ کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے ان پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم آئے تھے۔

وہ لاہور کے جناح ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہیں جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت بدستور نازک ہے۔

سربجیت کے وکیل اویس شیخ نے پیر کو بی بی سی سے بات چیت میں بتایا کہ ’آج صبح لاہور میں ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سربجیت سنگھ کو، ان کے خاندان کی خواہش کے برعکس، علاج کے لیے بیرون ملک یا بھارت لے جائے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اویس شیخ کے مطابق، ’سربجیت کو علاج کے لیے باہر لے جانا اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کے صدر انہیں آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت معاف کر دیں۔ بہرحال ابھی سربجیت کی حالت انتہائی نازک ہے اور وہ بےسدھ پڑے ہوئے ہیں۔‘

اس واقعے کے بعد سربجیت سنگھ کی اہلیہ، بہن اور دو بیٹیاں اتوار کو پاکستان پہنچے تھے۔ ان کی عیادت کے بعد بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے دلبیر کور نے کہا کہ وہ سربجیت سے ملی ہیں اور ان کی حالت نازک ہے۔

دلبير کے مطابق، ’میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ جب سے وہ یہاں آئے ہیں تب سے انہوں نے کتنی بار آنکھیں کھولی ہیں تو اس پر ڈاکٹر کا جواب تھا کہ جب سے انہیں داخل کیا گیا ہے انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی آنکھیں نہیں کھولی ہیں۔ وہ اسی حالت میں ہسپتال پہنچے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ انہیں یہاں سے منتقل کیا جائے۔ اگر ملالہ کو اتنی سنگین حالت میں یہاں سے باہر لے جا کر اس کا علاج ہو سکتا ہے تو سربجیت سنگھ کیوں نہیں جا سکتا۔‘

دلبير کور کے مطابق جب انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ سربجیت کب تک ٹھیک ہو جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ۔’ کچھ نہیں کہہ سکتے، صرف دعا کرو۔‘

سربجیت کی بیٹیوں کی آواز بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکی ہے۔ دلبير نے بتایا، ’میں سربجیت کی طرف دیکھ رہی تھی اور ایک لفظ بھی نہیں بول پائی۔ میں تو صرف بچوں کو سنبھالنے اور ان کے آنسو پونچھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بچے اس سے پوچھ رہے تھے، پاپا آپ بولتے کیوں نہیں؟ آپ آنکھیں کیوں نہیں کھولتے پاپا؟ پاپا پلیز کچھ کہو نا، پلیز آنکھیں کھولو۔‘

ادھر پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سفارتکاروں کو سربجیت سے دوبارہ ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سربجیت کے اہلخانہ جب چاہیں ان کی عیادت کے لیے ہسپتال جا سکتے ہیں اور پنجاب حکومت اور ہسپتال کا عملہ ان سے ہرممکن تعاون کرے گا۔

بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان سربجیت سنگھ کے خاندان کی تمام ضروری مدد کرے گی اور اس معاملے میں بھارتی حکام سے تعاون بھی جاری رکھے ی۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوران تفتیش انہوں نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انہیں انیس سو اکیانوے میں موت کی سزا سُنائی تھی۔

اسی بارے میں