پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 115 سے این اے 130 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔

اس سلسلے کی آٹھویں قسط میں این اے 115 سے این اے 130 تک کے انتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔قومی اسمبلی کے ان انتخابی حلقوں میں نارووال اور صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے حلقے شامل ہیں۔

ناروال

Image caption پاکستان تحریکِ انصاف نے معروف گلوکار اور سماجی کارکن ابرار الحق کو این اے 117 سے ٹکٹ دیا ہے

صوبہ پنجاب کا ضلع ناروال کی حدود میں قومی اسمبلی کے تین حلقے آتے ہیں۔

دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں این اے 115 ناروال 1 سے مسلم لیگ ن کی امیدوار سمیرا ناز نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس مرتبہ وہ ٹکٹ حاصل نہیں کر سکی ہیں اور ان کی جماعت نے میاں محمد رشید کو میدان میں اتارا ہے۔ اس حلقے میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ ق کے مابین سیٹ ایڈجسمنٹ نظر آتی ہے اور پی پی پی نے فاروق اکبر کاہلوں کو ٹکٹ دیا ہے۔

گزشتہ بار این اے 116 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار چوہدری محمد طارق انیس پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اس مرتبہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے 2008 میں مسلم لیگ ق کے دانیال عریز کو ہرایا تھا جو اب مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔ سیٹ ایڈجسمنٹ کی پالیسی کے تحت یہاں سے بھی مسلم لیگ ق نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

2013 کے عام انتخابات میں ناروال سے قومی اسمبلی کے آخری حلقے این اے 117 میں دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے اس نشست کا دفاع ان کے سینیئر رہنما احسن اقبال کریں گے جن کا مقابلہ رفعت جاوید کاہلوں سے ہے جو اس مرتبہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

اسی حلقے سے پاکستان تحریکِ انصاف نے معروف گلوکار اور سماجی کارکن ابرار الحق کو ٹکٹ دیا ہے۔ نارووال ابرار الحق کا آبائی علاقہ ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

لاہور

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قومی اسمبلی کے کل 13 حلقے ہیں۔گزشتہ انتخابات میں لاہور سےگیارہ نشستیں مسلم لیگ ن جبکہ فقط دو پیپلز پارٹی نے جیتی تھیں لیکن آنے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف ایک اہم حریف کے طور پر مسلم لیگ ن کے لیے خطرہ بنتی نظر آتی ہے۔

این اے 118 لاہور 1 سے 2008 میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے محمد ریاض ملک اس بار بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں لیکن اس بار ان کا مقابلہ 11 کی بجائے 20 امیدواروں سے ہوگا جن میں پی پی پی پی کا ٹکٹ فراز ہاشمی اور تحریک انصاف کا حامد زمان کو ملا ہے۔

2008 کے الیکشن میں این اے 119 میں ایک امیدوار کے انتقال کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوئے تھے اور پھر ضمنی انتخاب میں اس نشست سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز بلامقابلہ کامیاب ہوئے تھے۔

حمزہ شہباز اس مرتبہ بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ ق کے ملک حامد محمود ، پی پی پی کے ملک سہیل اور پی ٹی آئی کے محمد مدنی سمیت 20 امیدواروں سے ہے۔

این اے 120 لاہور 3 میں مسلم لیگ ن کے بلال یاسین نے گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے مضبوط امیدوار جہانگیر بدر کو شکست دی تھی۔ اس مرتبہ دونوں جماعتوں نے اپنے امیدوار تبدیل کر لیے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے جماعت کے قائد میاں نواز شریف خود یہاں سے امیدوار ہیں اور ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے زبیر کاردار کو ٹکٹ دیا ہے۔

تحریکِ انصاف نے اس نشست سے خاتون امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو میدان میں اتارا ہے جبکہ جماعتِ اسلامی کے حافظ سلمان بٹ بھی اس حلقے سے امیدوار ہیں۔ اس حلقے سے نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی کزن سائرہ زبیر جنرل مشرف کی جماعت کی جانب سے میدان میں ہیں۔ سائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں این اے 121 بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی لیکن ن لیگ نے اس بار 2008 میں جیتنے والے میاں مرغوب احمد کی بجائے مہر اشتیاق احمد کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی نے اس حلقے سے اپنے سابق امیدوار اورنگزیب شفیع برکی پر ہی دوبارہ اعتماد کیا ہے۔ اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے امیدوار بیرسٹر حماد اظہر ہیں۔

حلقہ این اے 122 سے گزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے سردار ایاز صادق اس بار بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں تاہم اس بار ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ہے۔ پیپلز پارٹی نے یہاں سے اپنے سابق امیدوار میاں مصباح الرحمان کی جگہ بیرسٹر میاں عامر حسن کو ٹکٹ دیا ہے۔

Image caption عمران خان لاہور سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں

قومی اسمبلی کے حلقہ 123 سے گزشتہ بار کامیابی تو مسلم لیگ ن نے حاصل کی تھی تاہم کامیاب ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی نے پارٹی قیادت سے اختلافات کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی ۔ نشست خالی ہونے پر ضمنی انتحابات میں مسلم لیگ ن کے محمد پرویز ملک کامیاب ہوئے تھے۔ آئندہ انتخابات میں اس نشست کے لیے پرویز ملک کا مقابلہ 23 امیدواروں سے ہو گا جن میں پیپلز پارٹی کے میاں عزیز الرحمان چن اہم ہیں۔

2008 میں این اے 124 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار شیخ روحیل اصغر نے پی پی پی کے ایاز عمران اور مسلم لیگ ق کے ہمایوں اختر خان سمیت 5 امیدواروں کو واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔ اس بار ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر اعتزاز احسن کی شریک حیات بشری اعتزاز کو نامزد کیا ہے جو پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

اس حلقے سے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے پوتے اور جسٹس (ر) جاویداقبال کے بیٹے بیرسٹر ولید اقبال پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ہیں۔

این اے 125 مسلم لیگ ن کے لیے اہم حلقہ ہے۔ گزشتہ بار مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے پی پی پی کے محمد نوید چوہدری اور ق لیگ کے ہمایوں اختر خان کو شکست دی تھی ۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ق نے اس حلقے میں بھی سیٹ ایڈجسمنٹ کی ہے جس کے تحت خواجہ سعد رفیق کے سامنے پی پی پی کے محمد نوید ہی امیدوار کی حیثیت سے اترے ہیں۔

Image caption علامہ محمد اقبال کے پوتے اور جسٹس (ر) جاویداقبال کے بیٹے بیرسٹر ولید اقبال این اے 124 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ہیں

تحریکِ انصاف نے یہاں سے عدلیہ کی بحالی کی وکلاء تحریک کے اہم رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل حامد خان کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 126 لاہور کے ان چند حلقوں میں سے ایک ہے جہاں مسلم لیگ ن نے اپنے سابق امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے اور اس مرتبہ عمر سہیل ضیاء بٹ کی جگہ خواجہ احمد حسن شیر کے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید زاہد بخاری ہیں۔

جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی کے بھی اہم امیدوار اس حلقے میں موجود ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے یہاں سے لیاقت بلوچ جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے شفقت محمود کو میدان میں اتارا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں این اے 127 مسلم لیگ ن کے چوہدری نصیر احمد بھٹہ نے حاصل کی جبکہ آئندہ انتخابات میں اس نشست کے لیے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ وحید عالم خان کو دیا گیا ہے جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے سردار خرم لطیف حان کھوسہ سے ہے جو سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے صاحبزادے ہیں۔ اس نشست کے لیے ایم کیو ایم کی بسمہ آصف اور پی ٹی آئی کے نصراللہ مغل بھی میدان میں ہیں ۔

Image caption جماعتِ اسلامی نے این اے 126 سے لیاقت بلوچ کو ٹکٹ دیا ہے

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 128 میں دو ہزار آٹھ کے کامیاب امیدوار ملک محمد افضل کھوکھر کا تعلق بھی مسلم لیگ ن سے ہی تھا۔ اس بار ان کے مدمقابل مضبوط امیدوار ملک کرامت علی کھوکھرہیں تاہم اب وہ پیپلز پارٹی کے بجائے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ اس مرتبہ محمد اسلم ارائیں کو دیا گیا ہے۔

گزشتہ بار حلقہ این اے 129 سے پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی اور کامیاب ہونے والے طارق شبیر اس بار بھی پیپلز پارٹی کے ہی امیدوار ہیں تاہم اب ان کا مقابلہ سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ہوگا۔

ضلع لاہور کےآخری حلقے این اے 130 سےگزشتہ بار کامیاب ہونے والی پی پی پی کی خاتون امیدوار ثمینہ خالد گھرکی اس بار بھی میدان میں ہیں تاہم ن لیگ نے اس بار ٹکٹ سعدیہ شبیر کی بجائے سہیل شوکت بٹ کو دیا ہے۔

اسی بارے میں