بےنظیر کیس:’مشرف کے بیان پر رحمان ملک سے تفتیش کا فیصلہ‘

Image caption پرویز مشرف کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا

بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے سابق صدر پرویز مشرف کے بیان کی روشنی میں سابق وزیرِ داخلہ اور بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے انچارج سینیٹر رحمان ملک سے دوبارہ تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثناء پرویز مشرف کے وکلاء نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ ضمانت کی یہ درخواست بیرسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے جمع کروائی گئی ہے جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کے پراسیکوٹر چوہدری ذوالفقار کو نوٹس جاری کردیا ہے اور اس درخواست پر تین مئی کو بحث کی جائے گی۔

سابق فوجی صدر نے حال ہی میں تفتیش کے دوران ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ وقوعہ کے روز بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ داری رحمان ملک کی تھی اس لیے ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جائے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کے بیان کی روشنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر خالد رسول کی سربراہی میں دو رکنی ٹیم سابق وزیر داخلہ کا بیان ریکارڈ کرے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اہلکار کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ داخلہ سے بےنظیر بھٹو کے قتل کے موقع پر ان کی جائے حادثہ پر موجودگی کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان سے یہ بھی سوال ہوگا کہ انہیں بےنظیر کی موت کی اطلاع کب اور کہاں ملی۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے رحمان ملک کا بیان اُس وقت بھی ریکارڈ کیا تھا جب وہ وزیر داخلہ تھے۔ ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ماتحت ادارہ ہے۔

ادھر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اس مقدمے میں چودہ دن کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

پرویز مشرف کو اس مقدمے میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے خاتمے پر منگل کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاہم سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں عدالت نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سماعت کے دوران مقدمے کے تفتیشی افسر نے جج حبیب الرحمٰن کو بتایا کہ سابق صدر سے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور وہ اب مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کو مطلوب نہیں اور انہیں جیل بھیج دیا جائے۔

Image caption ایف آئی اے کی ٹیم نے رحمان ملک کا بیان اُس وقت بھی ریکارڈ کیا تھا جب وہ وزیر داخلہ تھے

اس پر عدالت نے چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ پرویز مشرف کو تیرہ مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ سابق فوجی صدر کو ان کے فارم ہاؤس میں ہی رکھا گیا ہے جسے اسلام آباد انتظامیہ سب جیل قرار دے چکی ہے۔

بےنظیر قتل کیس کے گرفتار ملزمان میں پرویز مشرف کا سب سے کم جسمانی ریمانڈ لیا گیا ہے۔ پرویز مشرف پر بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں اعابت مجرمانہ اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے میں شامل ہیں۔

اس سے پہلے انہی دفعات کے تحت راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے حراست میں لیا تھا اور اُن کا دس روز سے زائد کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔

ادھر اس مقدمے کے سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف سے ابھی کئی معاملات پر پوچھ گچھ ہونا باقی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف چالان تین مئی کو متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے باوجود مشرف سے سب جیل میں ہی تفتیش کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سات افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے پانچ ملزمان گُزشتہ پانچ سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود سمیت چھ افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب اکبر بُگٹی کے قتل کی تفتیش کرنے والے ٹیم نے بھی پرویز مشرف کو شامل تفتیش کرنے کے لیے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دی ہے۔ جب عدالت نے پولیس کی ٹیم سے استفسار کیا کہ کیا وہ ملز م کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس ضمن میں ابھی ہدایات نہیں ملیں۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو ملزم پرویز مشرف کو گرفتاری دیے بغیر عدالت سے چلے جانے سے متعلق اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے خلاف ہونے والی کارروائی کی تفصیلات 6 مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں