اخبار خریدنے گئے تھے کہ دھماکہ ہو گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیر کو یونیورسٹی روڑ پر خودکش بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک صحافی اور دو افغان اہلکاروں کی ہلاکت کی ایک وجہ اخبار بتائی گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر افراد بس کے انتظار میں تھے۔

اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی اپنی اپنی کہانی ہے، کوئی یونیورسٹی اور کاج جانے کے لیے بس سٹاپ پر کھڑا تھا تو کوئی دفتر جانے کے لیے تیار تھا۔

افغان اہلکار قاضی ہلال اور قاضی ادریس کزن تھے اور دونوں الگ الگ دفتر میں کام کرتے تھے۔ایک نے اپنے دفتر میں حاضری لگائی اور پھر دونوں افغان مہاجرین کے دفتر جا رہے تھے۔ان دونوں افغان اہلکاروں کے قریبی زرائع نے بتایا ہے کہ بس سٹاپ پر اترنے کے بعد دونوں اخبار کے سٹال پر اخبارات کا جائزہ لے رہے تھے کہ دھماکہ ہو گیا اور اس میں دونوں افغان اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اخبار سٹال کا مالک اس دھماکے میں زخمی ہوا ہے۔

قاضی ہلال سابق افغان وزیر قاضی امین وقاد کے بیٹے اور قاضی ادریس ان کے بھتیجے تھے۔ قاضی امین وقاد اس وقت افغان امن کمیشن اور شوریٰ ثنا کے رکن ہیں۔

سابق افغان وزیر گلبدین حکمت یار کے انتہائی قریب رہے تھے اور افغانستان میں مجاہدین کے دور میں وہ وزیر رہے تھے۔ اس وقت انھوں نے اپنی جماعت یا تنظیم بھی بنانے کی کوشش کی تھی۔

اسی طرح ایک فری لانس صحافی محمد عارف بھی اس دھماکے کا شکار اس وقت ہوئے جب وہ سٹال پر اخبار خریدنے پہنچے تھے۔

محمد عارف نے صحافت کا شوق پورا کرنے کے لیے محکمۂ پولیس سے بطور کلرک ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور غیر ملکی ویب سائٹس کے لیے لکھا کرتے تھے۔

ان کا معمول تھا کہ صبح کے وقت اخبار کے سٹال پر پہنچ کر مختلف اخبارات کا جائزہ لیتے اور پھر گھر چلے جاتے۔ گزشتہ روز بھی ایسے ہی ہوا وہ اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے کہ اس دوران زور دار دھماکہ ہوا اور محمد عارف اس دھماکے کی لپیٹ میں آ گئے۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اس سال اب تک تین صحافی شدت پسندی کے اس طرح کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

انتخابات کے اعلان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کی انتخابی مہم کے دوران دھماکے میں ایک صحافی ہلاک اور ایک زخمی ہو گئے تھے۔

اسی طرح لنڈی کوتل کے ایک نوجوان رحمان اللہ نے اتوار کی رات ہاسٹل میں اپنے کزن کے پاس گزاری اور صبح وہ واپس جا رہے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوا اوروہ اس دھماکے کی لپیٹ میں آ گئے۔رحمان اللہ کے کزن پہلے تو یہ سمجھے کہ اس کی بس روانہ ہو گئی ہے لیکن اگلے لمحے انہوں نے کزن کی خیریت دریافت کی تو رابطہ نہ ہوا اور پانچ گھنٹے کی کوششوں کے بعد رحمان اللہ کی لاش خیبر ٹیچنگ ہسپتال سے ملی تھی۔

اس دھماکے میں ہلاک اور زخمیوں کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت اس روڑ پر تعلیمی اداروں اور دفاتر جانے والے افراد کا رش ہوتا ہے۔ پشاور کی یہ شاہراہ درجنوں یونیورسٹیوں اور کالجز کو جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسی شاہراہ پر بڑے تجارتی مراکز اور مارکیٹیں موجود ہیں۔ اس مصروف شاہراہ پر ٹریفک بھی عام طور پر زیادہ ہوتی ہے اور اکثر گاڑیاں رینگتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اسی بارے میں