مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی

Image caption پرویز مشرف نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کراچی، اسلام آباد، قصور اور چترال سے قومی اسمبلی کے چار نشستوں کے لیے کاغداتِ نامزدگی جمع کرائے تھے

پشاور ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے منگل کو سابق فوجی صدر کی نااہلی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت بینچ نے اپیل خارج کرتے ہوئے سابق فوجی صدر پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی۔

سابق صدر کے وکیل نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ اس سے پہلے حلقہ این اے بتیس چترال کے ریٹرننگ آفیسر نے پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے تھے جسے الیکشن ٹربیونل نے مسترد کر دیا تھا۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے منگل کو سماعت کے دوران کہا کہ پرویز مشرف نے دو مرتبہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور عدلیہ کو نشانہ بنایا۔

جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے غیرآئینی طور پر ایمرجنسی لگائی اس لیے اب پرویز مشرف پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی لگائی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کراچی، اسلام آباد، قصور اور چترال سے قومی اسمبلی کے چار نشستوں کے لیے کاغداتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔

چترال کے علاوہ باقی تین حلقوں سے پہلے ہی مرحلے میں ان کے کاغذاتِِ نامزدگی مسترد ہو گئے تھے جبکہ چترال سے منظور کیے جانے والے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیے جانے پر الیکشن ٹربیونل نے یہاں سے بھی کاغذات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف درخواست نہ صرف پشاور ہائی کورٹ نے مسترد کر دی بلکہ ان پر تاحیات پابندی بھی عائد کر دی۔

اسی بارے میں