قبائلی امیدواروں پر شہری علاقوں میں پابندی

Image caption پشاور میں ان امیدواروں کی کچھ سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے انتخابی سرگرمیوں پر جاری حملوں کے بعد قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں پر شہری علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور ان امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں تک ہی محدود رہیں۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقے میں امیدواروں کو انتخابی سرگرمیوں سے روک دیا ہے۔

محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے یہ فیصلہ شہری علاقوں میں انتخابی مہم اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر ہونے والے کئی حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر امیدواروں نے اپنے انتخابی دفاتر اپنے حلقوں سے متصل شہری علاقوں میں قائم کر لیے ہیں جہاں بڑی تعداد میں آپریشن سے متاثرہ افراد آتے رہتے ہیں۔

محکمۂ داخلہ اور قبائلی امور کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں اپنے متعلقہ حلقوں تک محدود رکھیں کیونکہ شہری علاقوں میں اس طرح کی سرگرمیوں سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے دفاتر پر پشاور اور کوہاٹ میں حملے ہو چکے ہیں جن میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر جاوید مروت نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ گزشتہ چند دن سے پشاور میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے یہاں شہری علاقے میں عام لوگوں کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھ گئے تھے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انھیں اپنے علاقوں تک محدود رکھا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پشاور میں ان امیدواروں کی کچھ سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انھوں نے متعلقہ قبائلی ایجنسی میں حکام سے رابطہ بھی کیا ہے تاکہ تمام امیدواروں کو اپنے حلقے تک محدود رکھا جا سکے۔

جاوید مروت سے جب پوچھا گیا کہ اکثر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد شہری علاقوں میں یا کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں تو ان سے امیدوار کیسے رابطہ کر سکیں گے، تو اس پر جاوید مروت کا کہنا تھا کہ اس کے لیے امیدواروں کو کیمپوں میں جانا چاہیے نہ کہ تمام متاثرہ افراد کو شہری علاقوں میں بلا کر جلسے منعقد کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیٹکل پارٹیز ایکٹ قبائلی علاقوں تک وسعت اختیار کر چکا ہے اور اب ان تمام امیدواروں اور ان کی متعلقہ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیاں اپنے حلقوں تک محدود رکھیں۔

جنوبی وزیرستان کے حقلہ این بیالیس سے آزاد امیدوار قیوم شیر خیبر پختونخوا کے شہری علاقے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک سرکار کی جانب سے کسی نے ان سے رابطہ قائم نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اپنے ووٹرز سے رابطے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

’ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی متاثرہ افراد کا کیمپ نہیں ہے نقل مکانی کرنے والے شہری علاقوں میں اپنے طور یا رشتہ داروں کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کے اپنے حلقہ وزیرستان میں وہ فوجی آپریشن کی وجہ سے جا نہیں سکتے‘۔

قیوم شیر نے کہا کہ اس مرتبہ ان کے حلقے کے پولنگ سٹیشنز بھی ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے شہری علاقوں میں قائم کیے جا رہے ہیں۔

باجوڑ اور مہمند ایجنسی کی سیاسی سرگرمیاں کافی حد تک اپنے ہی علاقوں میں جاری ہیں جبکہ خیبر ایجنسی کے متاثرہ افراد پشاور، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے امیدوار اپنی سرگرمیاں کوہاٹ اور جنوبی وزیرستان ایجنسی کے امیدوار انتخابی مہم ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔شمالی وزیرستان کے امیدوار اپنے علاقوں میں سرگرم ہیں۔

اسی بارے میں