پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 131 سے این اے 147 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔

اس سلسلے کی نویں قسط میں این اے 131 سے این اے 147 تک کے انتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔قومی اسمبلی کے ان انتخابی حلقوں میں شیخوپورہ ، ننکانہ صاحب ،قصور اور اوکاڑہ کے اضلاع شامل ہیں۔

شیخوپورہ

Image caption شیخوپورہ کو مسلم لیگ نواز کا حمایتی علاقہ مانا جاتا ہے

ضلع شیخوپورہ میں قومی اسمبلی کے 7 حلقے شامل تھے تاہم اب ننکانہ صاحب کو ضلع کا درجہ مل جانے کے بعد یہ حلقے نئے ناموں کے ساتھ دونوں اضلاع میں تقسیم کر دیےگئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا تنویر حسین نے گزشتہ انتخابات میں این اے 131 اور این اے 132 سے کامیابی حاصل کی تھی اور ان کی جانب سے این اے 131 کی نشست چھوڑنے کے بعد ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن ہی کے رانا افضال حسین اس نشست پر کامیاب ہوئے تھے ـ

اس بار این اے 131 میں رانا افضال حسین کا مقابلہ مسلم لیگ ق کے رنر اپ بریگیڈیئر (ر) ذولفقار احمد ڈھلوں کی بیوہ آمنہ ذوالفقار ڈھلوں سے ہوگا۔ پی پی پی نے اس حلقے میں ق لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔

آئندہ انتخابات میں این اے 132 میں رانا تنویر حسین ہی مسلم لیگ نواز کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پی پی پی کے سید غیور عباس بخاری کا ہے۔ اس حلقے میں مدمقابل 23 امیدواروں میں سے 14 آزاد امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کا ٹکٹ ریاض احمد بھلہ کو اور پی ٹی آئی کا ایاز سرفراز ملک کو دیا گیا ہے۔

این اے 133 شیخوپورہ 3 میں آئندہ انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن نے اس بار بھی گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے میاں جاوید لطیف نامزد کیا ہے۔ ان کے مدمقابل اہم ناموں میں پی ٹی آئی کے ابوبکر ورک اور پی پی پی کے الطاف حسین ورک اور جماعت اسلامی کے خالد محمود ورک کے نام شامل ہیں۔

دو ہزار آٹھ میں حلقہ این اے 134 سے مسلم لیگ ن کے سردار محمد عرفان ڈوگر نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار ان کے مدمقابل امیدواروں میں اہم نام مسلم لیگ ق کے خرم منور منج کا ہی ہے۔ دیگر امیدواروں میں پی ٹی آئی نے شفقت علی جبکہ جماعت اسلامی نے میاں اسد اللہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

ننکانہ صاحب

Image caption ننکانہ صاحب کو ضلع بننے کے بعد قومی اسمبلی کی تین نشستیں ملی ہیں

گزشتہ بار این اے 135 مسلم لیگ ن کےچوہدری محمد برجیس طاہر نے جیتی تھی جو اس بار بھی وہی مضبوط امیدوار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے رائے اعجاز احمد خان کی جگہ اس بار میاں شمیم حیدر کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں سے جماعت اسلامی کے سرفراز احمد خان ، ایم کیو ایم کے محمد مالک بھٹی اور پی ٹی آئی کے چوہدری محمد ارشد ساہی سمیت 28 امیدوار میدان میں ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 136 کے لیے اس بار بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری بلال احمد ورک اور مسلم لیگ ق کے امیدوار کے درمیان اہم مقابلہ متوقع ہے لیکن اس بار ق لیگ کا ٹکٹ پیر طارق احمد کے بجائے شاہد منظور گل کو ملا ہے۔ پی پی پی نے اس نشست کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے سمجھوتے کے تحت اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

این اے 137 ننکانہ صاحب 2 سے گزشتہ بار آزاد امیدوار سعید احمد ظفر نے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے مضبوط امیدواروں کو شکست دی تھی۔ وہ اس بار بھی اس نشست کا دفاع آزاد امیدوار کی حیثیت سے ہی کریں گے۔ ن لیگ نے یہاں سے رائے منصب علی خان کو ٹکٹ دیا ہے جوگزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ ق کے امیدوار تھے۔ ق لیگ نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے یہاں امیدوار کھڑا نہیں کیا جبکہ پی پی پی پی نے اس مرتبہ شجہاں احمد بھٹی کو ٹکٹ دیا ہے۔

قصور

Image caption خورشید محمود قصوری ق لیگ سے الگ ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں

ضلع قصور میں قومی اسمبلی کے کل 5 حلقے ہیں اورگزشتہ انتخابات میں ان میں سے تین میں مسلم لیگ ن نے فتح حاصل کی تھی۔

این اے 138 قصور 1 سے دو ہزار آٹھ کے کامیاب امیدوار راؤ مظہر حیات خان کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا تاہم اس بار پارٹی ٹکٹ سلمان حنیف کو دیا گیا ہے جن کا مقابلہ حریف جماعت پی پی پی کی خاتون امیدوار ناصرہ میو سے ہوگا۔

این اے 139 میں گزشتہ بار مسلم ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وسیم اختر شیخ ہی اس بار بھی میدان میں ہیں اور پیپلز پارٹی نے بھی سابقہ امیدوار چوہدری منظور احمد کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ اس حلقے سے سابقہ آزاد امیدوار سردار محمد حسین ڈوگر اس بار تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

این اے 140 ضلع قصور کی وہ واحد نشست ہے جو گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی تھی۔ کامیاب ہونے والے امیدوار سردار آصف احمد علی نے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر لڑنے والے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو شکست دی تھی۔

تاہم سردار آصف احمد علی کی جانب سے تحریکِ انصاف میں شامل ہونے کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوئی اور اس پر ضمنی انتخاب آزاد امیدوار ملک رشید احمد خان نے جیت لیا تھا۔ ملک رشید احمد خان اس بار بھی انتخاب تو لڑیں گے لیکن اب ان کی وفاداری مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے جبکہ خورشید محمود قصوری ق لیگ سے الگ ہو کر تحریک انصاف کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔

Image caption سابق وزیرِ خارجہ آصف احمد علی آزاد حیثیت سے این اے 140 میں میدان میں ہیں

آصف احمد علی تحریکِ انصاف سے ٹکٹ نہ ملنے پر اب بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت پیپلز پارٹی نے اس حلقے میں مسلم لیگ ق کے لیے میدان خالی چھوڑا ہے جس کے امیدوار ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی ہیں۔

حلقہ این اے 141 میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنے سابق ایم این اے رانا محمد اسحاق خان کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں ق لیگ نے پی پی پی کے ساتھ طے شدہ مفاہمت میں کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا اور پی پی پی کے امیدوار سید طارق رضا ہیں۔

ضلع قصور سے قومی اسمبلی کے آخری حلقے این اے 142 میں گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ق کے سردار طالب حسن نکئی کو کامیابی ملی تھی جو اس بار بھی یہاں سے امیدوار ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے رانا محمد حیات خان سمیت 13 امیدواروں کا سامنا کریں گے۔ پی ٹی آئی نے رانا تنویر ریاض خاں جبکہ جماعت اسلامی نے حاجی محمد رمضان کو میدان میں اتارا ہے۔

اوکاڑہ

Image caption اوکاڑہ میں پیپلز پارٹی نے دو نشستوں کے لیے میاں منظور وٹو کو ٹکٹ دیا ہے

ضلع اوکاڑہ میں قومی اسمبلی کی کل 5 نشستیں ہیں۔گزشتہ بار اس ضلع میں مسلم لیگ ن کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا اور دو نشستیں پی پی پی جبکہ تین آزاد امیدواروں نے اپنے نام کی تھیں اور یہ امیدوار بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔

دو ہزار آٹھ میں این اے 143 اوکاڑہ ون میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کیپٹن (ر) رائے غلام مجتبی کھرل نے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ اس الیکشن میں اس نشست کے لیے وہ میدان میں موجود نہیں کیونکہ دوہری شہریت کے کیس میں سپریم کورٹ نے انہیں انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا تاہم پارٹی نے اس نشست کے دفاع کے لیے ان کی اہلیہ سمیرا مشتاق کھرل کو ٹکٹ دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے لیاقت علی، مسلم لیگ ن کے رائے عباس ربیرہ، مسلم لیگ ق کے رائے محمد اسلم کھرل جبکہ ایم کیو ایم کے مدثر اعجاز سمیت چودہ امیدوار اس حلقے سے میدان میں ہیں۔

گزشتہ بار این اے 144 سے کامیابی حاصل کرنے والے آزاد امیدوار چوہدری سجاد الحسن پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے لیکن انہیں اس بار بھی پی پی پی کا ٹکٹ نہیں ملا اور وہ ایک مرتبہ پھر آزاد امیدوار ہیں۔

پی پی پی نے یہاں سے گزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ ق کے امیدوار اور سابق وزیرِ دفاع راؤ سکندر اقبال مرحوم کی اہلیہ شفیقہ سکندر اقبال کو ٹکٹ دیا ہے۔ دیگر امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے محمد عارف چوہدری ، تحریک انصاف کے راؤ خالد خان اور جماعت اسلامی کے محمد فاروق شیخ نمایاں نام ہیں۔

Image caption سید صمصام بخاری اس مرتبہ بھی اپنی خاندانی نشست پر امیدوار ہیں

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں این اے 145 کی نشست پی پی پی کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر مملکت سید صمصام بخاری نے جیتی تھی۔ اس مرتبہ بھی وہ اپنی اس خاندانی نشست پر امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ ق نے اس نشست کو بھی پی پی پی کے لیے نظر انداز کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن نے سید محمد عاشق حسین ، تحریک انصاف نے سید علی حسنین شاہ پر بھروسہ کیا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 146 اور این اے 147 دونوں سے ایک ہی آزاد امیدوار میاں منظور احمد خاں وٹو نے کامیابی حاصل کی تھی اور بعد ازاں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ این اے 147 پر ضمنی الیکشن میں ان ہی کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو نے پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اس مرتبہ پیپلز پارٹی نے دونوں نشستوں کے لیے میاں منظور وٹو کو ٹکٹ دیا ہے۔ این اے 146 میں ان کے مدمقابل امیدواروں میں اہم نام راؤ محمد اجمل خان کا ہے جو اس بار مسلم لیگ ق کے بجائے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

این اے 147 میں میاں منظور احمد خان وٹو کے مقابل 9 امیدوار ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے محمد معین وٹو ، تحریک انصاف کے ملک وقار احمد اور جماعت اسلامی کے نصیر احمد نمایاں ہیں۔

اسی بارے میں