ہاری کا کچھ نہیں، سب کچھ ادھار کا

Image caption ثروت جیسے ہاریوں کو جن کی زندگی ایک زمیندار کے رحم و کرم پر ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد میں ایک صدیوں پرانی کہانی اب تک چل رہی ہے۔

’یہاں کے ہاریوں کی بے بسی اور با اثر وڈیروں کا راج‘۔

جیکب آباد کے ایک گاؤں احمد پور کا غریب ہاری کسان ثروت سولنگی ایک ادھار کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔

پانچ بچوں کے باپ ثروت برسوں سے گاؤں کے وڈیرے کی زمینوں پر کام کر کے اپنے خاندان کا پییٹ پال رہے تھے۔

انہیں پورا مہینہ خون پسینہ بہانے کے بعد جو معاوضہ ملتا تھا اس سے مشکل سے ہی گزارہ ہوتا تھا لیکن تین سال مسلسل آنے والے سیلاب نے جہاں زرعی اراضی کو زیر آب کر دیا وہیں ثروت اور ان کا خاندان مفلسی میں غوطے کھا رہا ہے۔

’وڈیرے نے ہماری کوئی مدد نہیں کی جب ہم نے یہاں سے دور جانے کا سوچا تو اس نے مطالبہ کیا کہ پہلے میرا ادھار چکاؤ پھر جانے دوں گا۔‘

کسی اور کی زمین پر کام کرنے والے اس ہاری کا کچھ بھی اپنا نہیں ہے کیونکہ زمین وڈیرے کی، فصل اگانے کا پیسہ وڈیرے کا، کھاد بھی وڈیرے کی اور جب فصل تیار ہوئی تو اس کی ملکیت بھی وڈیرے ہی کی ہو گی۔ یہ ہاری ادھار پر جیتا ہے اور یہ ہی قرض وراثت میں اپنی اولاد کو دے کر مرتا ہے اور یوں نسل در نسل قرض کا یہ سلسلہ کبھی بھی نہیں ٹوٹتا۔

سیلاب میں گاؤں کی تباہی کے بعد ثروت کی زندگی اب ایک کھیت کے کنارے پر بنے ایک عارضی کیمپ میں پندرہ خاندانوں کے ساتھ گزرتی ہے جو انہیں ایک فلاحی ادارے کی مہربانی سے نصیب ہوا۔

اب ان ہاریوں کو جن کی زندگی ایک زمیندار کے رحم و کرم پر ہے، انتخابات اور تبدیلی کے نعروں سے کیا لینا دینا؟

جب ان سے پوچھا کہ ووٹ کسے دیں گے تو ان کی بے بسی جواب سے نمایاں تھی’ظاہر ہے جہاں وڈیرا کہےگا وہیں ووٹ دیں گے، وڈیرے کی مرضی کے خلاف یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

سیلاب آئے تین سال گزر گئے اور ان ہاریوں کی زندگی میں کچھ نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور حکومتی دعوے شاید ان کی زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔

عالی بینک کے مطابق پاکستان کے دو فیصد خاندان ملک کی چالیس فیصد سے زیادہ زمین کے مالک ہیں اور ان پر کام کرنے والے اسی فیصد لوگ ثروت جیسے ہاری ہی ہیں۔

یہ نظام کچھ ایسا ہے کہ علاقے کا وڈیرہ یا زمیندار ان کی عمومی زندگی اور خاص طور پر معاشی اور سیاسی زندگی اپنی مرضی سے چلا سکتا ہے۔

سندھ کے بڑے زمینداروں میں سے ایک ممتاز بھٹو کا کہنا ہے کہ اس نظام کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نظام میں نقائص ہیں لیکن زمیندار ہاری کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ زمیندار کے بغیر ہاری نہیں چل سکتا اور نہ ہاری کے بغیر زمیندار۔ یہ نظام صرف حکومت بدل سکتی ہے مگر وہ ایسا نہیں کر پائی تو یہ پھر ایسے ہی چلتا رہے گا‘۔

بڑے زمیندار پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن ان کے اپنے علاقوں میں بنیادی سہولیات اور تعلیم کا واضح طور پر فقدان نظر آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق صرف شمالی سندھ میں نوے ہزار بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

گوٹھ غلام نبی جاکھرانی کا نام باقی گوٹھوں کی طرح علاقے کے بااثر قبائلی خاندان پر رکھا گیا ہے۔ تمام علاقہ سیلاب کے بعد گزشتہ تین سال سے بنجر پڑا ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ہے اور علاقے کا سردار اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہے۔ پھر بھی ان ہاریوں کی زندگی اس زمین سے بندھ چکی ہے۔

خالد رسول ایک بوڑھے ہاری کھلی فضا میں موسموں کی گرمی سردی کو برداشت کرتے ہیں۔ جمہوری عمل سے وہ شاید اتنے واقف نہ ہو لیکن انہیں اپنے گوٹھ کے سردار کا اچھی طرح پتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’سردار یہاں کبھی آیا ہی نہیں، ہمارا حشر ہو گیا لیکن کیا کریں ووٹ تو اسی کو دیں گے اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے‘۔

ووٹ ڈالنے کے عمل سے زیادہ ان ہاریوں کی زندگی میں دو وقت کی روٹی کی اہمیت زیادہ ہے۔ جمہوری عمل یا آئندہ انتخابات کی گہما گہمی اور تبدیلی کی ہوا کیا ان لوگوں کی زندگی میں بھی پہنچ پائے گی یا یہ اس کے انتظار میں ترستے اس بیابان میں یونہی پڑے رہیں گے۔ شاید اسی لیے آئندہ انتخابات سے امیدیں وابستہ کرنے میں ان ہاریوں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں