عطیہ پڑھنا چاہتی ہے

Image caption غریب ماں پاب کی بیٹی عطیہ تعلیم کے لیے پُر عزم ہے

میری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں میں تو ہمیشہ اس بات کی کوشش میں رہی کہ مجھے سکول میں اچھے مارکس ملے۔

اس دن اسکول میں تقریب اسناد وانعامات تھی میں اسی عزم کے ساتھ سکول گئی تھی کہ مجھے آج انعام ملے گا کیونکہ میں نے امتحان میں بہت محنت کی تھی اور جب مجھے ٹرافی ملی تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی۔

مجھے پتہ تھا کہ میرا پاپا بھی گھر میں مجھے انعام دے گا۔اس دن مجھے گھر جانے کی جلدی اس لیے تھی کیونکہ مجھے اپنی ماں کو اپنی کامیابی کی خوشخبری دینی تھی ۔لیکن یکایک انعامات اور مسرتوں کی یہ تقریب افراتفری میں بدل گئی۔ پہلے زور کا دھماکہ ہوا اور پھر اندھا دھند فائرنگ۔۔۔

اس وقت تو مجھے پتہ نہیں چلا کہ کس کس کو گولی لگی ہے لیکن میرے بدن سے خون فوارے کی طرح بہنے لگا اور جب ہوش آیا تو پتہ چلا کہ میں چلنے پھرنے سے معذور ہو چکی ہوں۔

یہ کہانی نوسالہ عطیہ کی ہے ۔جو تیس مارچ کو کراچی کے علاقے اتحاد ٹاون میں اس سکول میں گولیوں کا نشانہ بنی جس پر نامعلوم افرادنے حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے کیا گیا کیونکہ اس سے قبل بھی طالبان اس علاقے میں تشدد کی معتدد کارروائیاں کر چکے ہیں لیکن تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں ان کی تنظیم کا ہاتھ نہیں۔

حملے میں سکول کے پرنسپل رشید احمد خان سمیت ایک طالبہ ہلاک ہوئیں۔رشید احمد خان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا۔ عطیہ کو دو گولیاں لگی جس سے ان کی ریڈھ کی ہڈی کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے اور اب وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی ہے۔

تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیرِ علاج عطیہ کے چہرے پر اس واقعے کا خوف اب بھی واضح طور پر جھلکتا ہے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی ہیں لیکن سب سے اہم یہ کہ اسے سکول جانے کی جلدی ہے۔

میں جب ان سے مقا می ہسپتال میں ملنے گیا تو ان کے سرہانے نصابی کتابیں اور بچوں کے ڈائجسٹ موجود تھے۔کہنے لگی انکل مجھے سکول جانا ہے ۔لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ مجھے ٹھیک ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ مجھے اس وقت کا انتظار ہے کہ جب میں دوبارہ اپنے پاؤں پر چل کر سکول جا سکوں اور اگر میں ٹھیک نہیں ہوئی تب بھی تعلیم حاصل کروں گی۔

عطیہ کے اس جملے نے ان کے والد ارشد علی اور ان کی ماں خیر النساء دونوں کو رونے آبدیدہ کر دیا۔ارشد علی نے روتے ہوے اپنی بچی سے کہا بیٹی تم ضرور ٹھیک ہوگی اور میں تمیں ہر روز سکول چھوڑنے جاوں گا۔

اس واقعے کے بعد ارشد علی کے فیملی کے دیگر بچے سات سالہ اسما، پندرہ سالہ احمد علی اور صمد علی سکول نہیں جا رہے۔ ان بچوں کے چہروں پر خوف کے اثرات واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں مگر سکول نہ جانے کی وجہ وہ والد کا کام پر نہ جانے اورسکول فیس کی عدم ادائیگی بتاتے ہیں۔

ارشد علی فیکٹری میں دیہاڑی پر کام کرتے ہیں لیکن گزشتہ ایک ماہ سے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہسپتال میں ہے۔

ارشد علی کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی بھی ملالہ ہے۔لیکن میری ملالہ کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا۔مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے بس میری بیٹی اپنے پاؤں پر چلنا شروع کردے یہی میرے لیے کُل جہاں ہے۔ میں اپنی بیٹی اور باقی اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کروں گا۔

ارشد علی کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی سے ہے اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے کراچی میں آباد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے بڑوں نے ہمیں غربت کی وجہ سے تعلیم نہیں دی لیکن ہم اپنے بچوں کو ضرور تعلیم دیں گے۔

ارشد علی اس بات کو نہیں جانتے کہ سکول پرنسپل اور حملہ کرنے والوں کی آپس میں کیا چپقلش اور لڑائی تھی؟ لیکن ان کی بیٹی اور دیگر طالبات کو کس جرم میں گولیاں ماری گئی اور اس کا حساب کون دے گا یہ معاملہ انہوں نے اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔

غریب ماں پاب کی بیٹی عطیہ پُرعزم ہے اور علم کے حصول کے لیے ان کی آنکھوں میں بھی چمک عیاں ہے۔ لیکن عطیہ کی خبر گیری کسی نے نہیں کی اور نہ ہی ان کے والدین سے کسی نے ہمدردی کے دو بول بولے ہیں۔

اسی بارے میں