ایبٹ آباد واقعے کو دو سال مکمل

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی امریکی حملے میں ہلاکت کو دو برس مکمل ہو گئے ہیں لیکن یہاں کے باشندے آج بھی اس بات پر یقین کرنے کےلیے تیار نہیں کہ دنیا کے مطلوب ترین شدت پسند اسی شہر میں کئی سالوں تک مقیم رہے تھے۔

شہر کے اکثریتی عام لوگ کا خیال ہے کہ ’امریکہ نے اسامہ کا ڈرامہ رچایا ہے وہ یہاں تھےہی نہیں۔‘

ایبٹ آباد میں مقامی مسجد کے خطیب قاری محمد عمیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی شکست چھپانے کے لیے اسامہ بن لادن کا ڈرامہ رچایا تاکہ دنیا کی توجہ اپنے سے ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی القاعدہ رہنما ایبٹ آباد ہی میں مارے گئے تھے تو پھر امریکہ کو اس کا ثبوت بھی پیش کرنا چاہیے لیکن ابھی تک ایسی کوئی ثبوت پیش نہیں کی جاسکی ہے۔

ان کے بقول ’ہوسکتا ہے کہ اسامہ زندہ ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ ہلاک ہوچکے ہوں۔ لیکن کم ازکم ان کی موت ایبٹ آباد کی سرزمین پر نہیں ہوئی ہے۔‘

اسامہ بن لادن امریکی حملے میں ہلاکت سے قبل ایبٹ آباد شہر کے بلال ٹاؤن میں پانچ سال سے ایک قلعہ نما مکان میں رہتے تھے۔ اس مکان کے بالکل سامنے ایک مقامی چوکیدار شمریز خان بھی رہتے ہیں۔ شمریز خان آج دو سال کے بعد بھی اس بات کےلیے تیار نہیں کہ القاعدہ رہنما پانچ سال تک ان کے پڑوس میں رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی جس سے ثابت ہوسکے کہ دنیا کے مطلوب شدت پسند اس کے گھر کے سامنے رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت اسامہ کی ہلاکت کا علم ہوا جب تین دن بعد خفیہ اداروں کے اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

دو سال پہلے آج ہی کی رات امریکی کمانڈوز نے ایبٹ آباد شہر میں فوج کے ایک اہم مرکز کے قریب القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ایک خفیہ آپریشن کے دوران ہلاک کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس آپریشن سے پاکستان کو لا علم رکھا گیا تھا۔

دو سال بعد بھی اس واقعہ سے جڑے ہوئے حقائق سامنے نہیں آسکے اور نہ ہی اس واقعہ میں ملوث افراد کا تعین کیا جاسکا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کےلیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمشین کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جسے ایبٹ آباد کمیشن کا نام دیا گیا۔

یہ کمیشن سابق پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر قائم کیا گیا۔ تاہم کمیشن نے اپنی تحقیقات تو مکمل کرلی ہے لیکن اس کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔

کمیشن کے ممبران کے مطابق تحقیقات میں ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی رپورٹ منظر عام پر لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں عام طور پر کمیشنز یا انکوائری کمیٹیوں کے حقائق من و عن سامنے آنے کی روایت کم ہی پائی جاتی ہے۔ کمیشنز مقرر کرنے کےلیے واویلا تو مچایا جاتا ہے لیکن بعد میں ان کے حقائق غائب کردیے جاتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی دبا دی گئی ہے جس سے اس واقعے سے متعلق شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

ایبٹ آباد واقعے کے ایک اہم ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی پچھلے تقریباً دو سالوں سے جیل میں ہیں۔ انہیں امریکہ کےلیے جاسوسی کرنے پر خیبر ایجنسی کی ایک مقامی عدالت کی طرف سینتیس سال کی سزا ہوچکی ہے۔ تاہم مجرم نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں اپیل دائر کررکھی جس کا فیصلہ دو مئی یعنی جمعرات کو سنایا جائے گا۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو ایک ایسے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے جو انتہائی حساس ہے جس میں اگر انہیں رہائی مل جائے تب بھی ان کو خطرہ درپیش رہے گا۔

ان کے بقول شکیل آفریدی کو اس صورت میں رہائی مل سکتی ہے کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے پا جائے ورنہ موجودہ مقدمات میں ان کا اتنا جلدی رہا ہونا ممکن نہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے کچھ دنوں سے جیل کے اندر ہڑتال بھی کررکھی ہے کیونکہ ان کے ساتھ کسی کو ملنے نہیں دیا جارہا۔

دو مئی کے واقعہ کے بعد ایبٹ آباد شہر میں نہ تو اسامہ بن لادن رہے اور نہ ان کا ٹھکانہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شاید اس واقعہ سے جڑے ہوئے وہ حقائق بھی سامنے نہ آسکے جو پاکستان کا ہر شہری جاننے کی خواہش رکھتا ہے۔