پاکستان کے انتخابی حلقے:این اے 148 سے این اے 170 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔

اس سلسلے کی نویں قسط میں این اے 148 سے این اے 170 تک کےانتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے ان انتخابی حلقوں میں ملتان، لودھراں، خانیوال، ساہیوال، پاکپتن اور وہاڑی کے اضلاع شامل ہیں۔

ملتان

Image caption سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی حلقہ این اے 151 سے امیدوار ہیں

ضلع ملتان میں قومی اسمبلی کی کل 6 نشستیں ہیں ـ حلقہ این اے 148 ملتان 1 میں دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن بعد میں پارٹی سے اختلافات کے باعث انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ ضمنی انتحابات میں یہ نشست سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی نے پی پی پی کے ٹکٹ پر جیتی۔ اس بار یہاں شاہ محمود قریشی اور علی موسی گیلانی کے درمیان ہی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔

این اے 149 میں گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے ناراضی کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی نتیجتاً ضمنی انتخاب مسلم لیگ ن ہی کے شیخ محمد طارق رشید نے جیتا تھا۔ اس بار بھی اس حلقے میں یہی دونوں اہم امیدوار ہیں جبکہ یہاں سے لیکن جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں این اے 150 کی نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا محمودالحسن نے سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید عبدالقادر گیلانی کو شکست دی تھی آئندہ انتخابات میں بھی وہ مسلم لیگ ن کے لیے ہی اس نشست کا دفاع کریں گے لیکن اس بار ان کا اصل مقابلہ پی ٹی آئی کے مخدوم شاہ محمود قریشی سے ہوگا۔ پی پی پی پی نے یہاں سے نفیس انصاری کو ٹکٹ دیا ہے۔

2008 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 151 میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ ق کے امیدوار سکندر حیات بوسن کو شکست دی تھی تاہم توہین عدالت کیس میں جرم ثابت ہونے پر وہ قومی اسمبلی کی رکنیت اور آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہوئے۔

Image caption حلقہ این اے 148 ملتان 1 میں شاہ محمود قریشی اور علی موسیٰ گیلانی کے مابین دلچسپ مقابلہ متوقع ہے

ضمنی انتخاب میں یہ نشست انہی کے صاحبزادے سید عبدالقادر گیلانی نے جیتی تھی اور اس مرتبہ بھی یہی دونوں اپنی اپنی جماعتوں کے ٹکٹ پر مدِمقابل ہیں۔ اس حلقے میں پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت مسلم لیگ ق کا کوئی امیدوار نہیں۔

گزشتہ بار این اے 152 کی نشست بھی پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی تاہم پارٹی نے کامیاب ہونے والے لیاقت علی خان کے بجائے اس بار گیلانی خاندان کے رکن اور یوسف رضا گیلانی کے بھائی سید احمد مجتبٰی گیلانی کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن نے سید جاوید علی شاہ جبکہ پی ٹی آئی نے محمد ابراہیم خان کو میدان میں اتارا ہے۔

ضلع ملتان میں قومی اسمبلی کی آخری نشست این اے 153 پر 2008 میں مسلم لیگ ق کے امیدوار دیوان سید عاشق حسین بخاری نے کامیابی حاصل کی تھی جو اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں پی پی پی نے رانا محمد قاسم نون جبکہ پی ٹی آئی نے سید خورشید احمد کو نامزد کیا ہے۔

لودھراں

Image caption جہانگیر ترین لودھراں کے حلقے این اے 154 سے اہم امیدوار ہیں

2008 کے عام انتخابات میں ضلع لودھراں میں این اے 154 میں صدیق خان بلوچ نے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی جو اب بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ اس حلقے سے سب سے اہم نام جہانگیر خان ترین کا ہے جو مسلم لیگ ق چھوڑ کرتحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور ان کے مدمقابل کل 21 امیدوار ہیں۔

گزشتہ بار این اے 155 میں پیپلز پارٹی کے حیات اللہ خان ترین نے کامیابی حاصل کی تھی۔ نشست خالی ہونے پر محمد اختر خان کانجو نے یہاں سے بطور آزاد امیدوار انتخاب جیتا۔ اس مرتبہ وہ مسلم لیگ ن کا دفاع کررہے ہیں ـ اس نشست کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ نواب امان اللہ خان کو ملا ہے جبکہ پی پی پی کی جانب سے نے محمد فراز نون میدان میں ہیں۔

خانیوال

ضلع خانیوال کی حدود میں قومی اسمبلی کے کل چار حلقے ہیں۔

2008 میں این اے 156 میں مسلم لیگ ق کے محمد رضا حیات ہراج نے واضح اکثریت سے فتح حاصل کی تھی لیکن اب وہ بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ ان کے مدِمقابل گزشتہ بار کے رنر اپ اور سابقہ سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کا ہے جو پی پی پی کو خیر باد کہہ کر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

Image caption سید فخر امام پی پی پی کو خیر باد کہہ کر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں

قابل غور بات یہ ہے کہ آپس میں سیٹ ایڈجسمنٹ کرنے والی مسلم لیگ ق اور پی پی پی دونوں نے اس حلقے سے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔

این اے 157 کی نشست پر گزشتہ بار مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے حامد یار ہراج اس بار بھی اپنی پارٹی کی جانب سے نشست کا دفاع کر رہے ہیں ـ ان کے مدمقابل 9 امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے محمد خان ڈاہا مضبوط حریف ہیں ـ

2008 میں حلقہ این اے 158 سے بھی مسلم لیگ ق نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن یہاں سے کامیاب ہونے والے اسلم بولدہ نے وفاداری بدل لی ہے اور اب وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں۔ ان کے مقابل 15 امیدواروں کی فہرست میں اہم نام پی پی پی کے پیر حیدر زمان قریشی کا ہے۔

گزشتہ بار حلقہ این اے 159 پیپلز پارٹی کے چوہدری افتخار نذیر نے جیتا تھا مگر اب پی پی پی نے اپنا ٹکٹ سابقہ رنر اپ کیپٹن (ر) اسد اقبال گل کو دیا ہے کیونکہ چوہدری افتخار مسلم لیگ ن میں شامل ہو کر اسی نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔

ساہیوال

Image caption زاہد اقبال مسلم لیگ ن سے ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں

ضلع ساہیوال میں بھی قومی اسمبلی کے چار حلقے ہیں۔

2008 میں این اے 160 سے کامیابی حاصل کرنے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار سید عمران احمد شاہ اس بار بھی اہم امیدوار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن میں مسلم لیگ ق کے چوہدری نوریز شکور کو شکست دی تھی جو نہ صرف خود اس مرتبہ امیدوار نہیں بلکہ یہاں سے مسلم لیگ ق نے کوئی امیدوار کھڑا ہی نہیں کیا۔ اس حلقے سے پی پی پی نے محمد ذکی چوہدری، جمعیت علمائے اسلام نے قاری محمد طاہر رشیدی جبکہ جماعت اسلامی نے ڈاکٹر طاہر سراج کو میدان میں اتارا ہے۔

آئندہ انتخابات کے لیے این اے 161 کے امیدواروں میں اہم نام گزشتہ بار کامیاب ہونے والے پی پی پی کے مہر غلام فرید کاٹھیا کا ہی ہے۔ ن لیگ کا ٹکٹ چوہدری محمد اشرف جبکہ پی ٹی آئی کا ملک محمد ڈھکو کو ملا ہے۔

گزشتہ بار حلقہ این اے 162 میں پی پی پی کے کامیاب امیدوار چوہدری زاہد اقبال نے دوہری شہریت کیس کے باعث اپنی نشست سمیت پارٹی بھی چھوڑ دی تھی لیکن ضمنی انتخابات میں وہ اسی حلقے سے ن لیگ کے ٹکٹ پر پھر سے کامیاب ہو گئے تھے۔

اس بار انہیں مسلم لیگ ن نے ٹکٹ نہیں دیا مگر وہ آزاد حیثیت میں 10 امیدواروں کا سامنا کریں گے۔ پی پی پی کے لیے اس نشست کا دفاع چوہدری شفقت گھمن کریں گے جبکہ ن لیگ کا ٹکٹ چوہدری محمد طفیل کو ملا ہے۔

این اے 163 میں گزشتہ بار مسلم لیگ ق کے ملک نعمان احمد لنگڑیال کامیاب ہوئے تھے اور وہیں اس مرتبہ بھی ق لیگ کے امیدوار ہیں۔ ان کے مقابل مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد منیر اظہر مضبوط امیدوار ہیں۔

پاکپتن

ضلع پاکپتن میں قومی اسمبلی کے 3 حلقے ہیں۔ حلقہ این اے 164 پاکپتن 1 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے سردار منصب علی ڈوگر اس بار بھی ن لیگ کے امیدوار ہیں۔ اس حلقے سے دیگر 5 امیدواروں میں مسلم لیگ ق کے پیر محمد شاہ کھگا کا نام اہم ہے۔

2008 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر این اے 165 سے کامیاب ہونے والے سید محمد سلمان محسن گیلانی اس بار ن لیگ کا ٹکٹ حاصل نہیں کر پائے۔ ان کا نام قومی اسمبلی کے ان ممبران میں شامل ہے جن کی ڈگری جعلی قرار دی گئی تھی ـ

اس بار مسلم لیگ ن کا ٹکٹ سید محمد اطہر حسین شاہ گیلانی کو دیا گیا ہے جن کے مقابل احمد رضا مانیکا مستحکم پوزیشن میں نظر آتے ہیں جو مسلم لیگ ق چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔

این اے 166 میں گزشتہ بار مسلم لیگ ن کے کامیاب ہونے والے امیدوار رانا زاہد حسین خان کو اس بار بھی ن لیگ کا ٹکٹ ملا ہے۔ ان کا سامنا ق لیگ کے راجہ طالع سعید اور پی ٹی آئی کے میاں محمد امجد جوئیہ سمیت 13 امیدواروں سے ہوگا۔

وہاڑی

Image caption تہمینہ دولتانہ این اے 169 سے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کی امیدوار ہیں

قومی اسمبلی سے ضلع وہاڑی کی چار نشستیں ہیں ـ 2008 میں این اے 167 وہاڑی 1 میں مسلم لیگ ق کے چوہدری نذیر احمد جٹ کامیاب ہوئے تھے تاہم نشست خالی ہونے کے بعد اس پر پیپلز پارٹی کے چوہدری اصغر علی جٹ کامیاب ہوئے۔ اس بار چوہدری نذیر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ کرنل (ر) راؤ عابد علی خاں کو ملا ہے۔

این اے 168 کی نشست پی پی پی کے عظیم دولتانہ نے حاصل کی تھی انھوں نے مسلم لیگ ن کی سینیئر رہنما اور اپنی قریبی رشتہ دار تہمینہ دولتانہ اور مسلم لیگ ق کے اسحاق خان خاکوانی کو شکست دی تھی۔

ٹریفک حادثے میں ان کی وفات کے بعد اس حلقے میں ضمنی انتخابات میں یہ نشست انہیں کی بہن شائستہ دولتانہ نے جیت لی تھی جو اس بار بھی پی پی پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں جبکہ ق لیگ کو چھوڑنے والے اسحاق خاکوانی پی ٹی آئی کے امیدوار کی حیثیت سے ان کے حریف ہیں۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں این اے 169 کی نشست مسلم لیگ ن کی تہمینہ دولتانہ نے اپنے نام کی تھی۔ آئندہ انتخابات میں اس حلقے میں ایک بار پھر وہ امیدوار ہیں جبکہ ان کے مقابل مضبوط امیدوار خان آفتاب احمد خان کھچی ہی ہیں تاہم اب وہ ق لیگ کے بجائے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ہیں۔

ضلع وہاڑی سے قومی اسمبلی کی آخری نشست این اے 170 میں گزشتہ بار پی پی پی کے محمد حیات خان الیاس ٹوچی خان کامیاب ہوئے تھے۔ اس حلقے میں بھی ق لیگ کا کوئی امیدوار نہیں لیکن گزشتہ بار ق لیگ کے ٹکٹ پر رنر اپ رہنے والے اورنگزیب خان کھچی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اس حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہاں ن لیگ کے امیدوار سعید احمد خان مہنیس کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں