سربجیت سنگھ یا محمد سرفراز؟

Image caption قیدی افتخار علی نے بی بی سی کو متعدد خط لکھے ہیں

بی بی سی کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں ایک قیدی نے سربجیت سنگھ کے ساتھ اپنی ملاقات کا احوال بیان کیا ہے۔ ذیل میں اس خط کا ایک حصہ پیش کیا جا رہا ہے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ کے قیدی افتخار کے ساتھ اپنی زبان سے کیا گیا اظہارِ خیال

بیانِ حلفی:

15 فروری 2009 کو مجھے یعنی قیدی افتخار علی کو سنٹرل جیل میانوالی سے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت ٹرانسفرر کر دیا گیا۔ قیدی ملاحظہ کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل نے میری مشقت لنگر اسیران میں ڈال دی۔ 20 فروری 2009 کی صبح سرفراز عرف سربجیت سنگھ کی چائے اور ناشتے پر میری مشقت لگائی گئی کہ تم نے یہ چائے اور ناشتہ محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ کو پہنچانا ہے۔ میں یہ چائے اور ناشتہ لے کر صرف دو منٹ کے سفر کے ساتھ بلاک نمبر 7 میں محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ کی چکی میں پہنچ گیا۔

چکی میں اکیلا قیدی تھا۔ میں نے پوچھا کہ سربجیت سنگھ آپ ہیں؟ جس پر محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ نے کہا کہ مجھے ایسے نہیں کہنا، میں مسلمان ہو چکا ہوں اور میرا نام اب محمد سرفراز ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے کشمیر سنگھ بھی تو مسلمان ہوا تھا، اور اس کا نام ابراہیم تھا، جو کہ میرے ساتھ میانوالی جیل سکیورٹی وارڈ نمبر 3 میں 24 گھنٹے قرآن پڑھتا رہتا تھا، مگر بارڈر کراس کرتے ہی وہ پھر محمد ابراہیم سے کشمیر سنگھ بن گیا۔

جس پر محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ مجھے صفائیاں پیش کرنے لگا کہ میں کشمیر سنگھ نہیں ہوں۔ اس کے بعد میں نے محمد سرفراز عرف سربجیت سنگھ سے پوچھا کہ جناب نے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہوئے بم بلاسٹ کر کے کم از کم 30 لوگوں کی جانیں لی ہیں، اور آپ کی تمام اپیلیں خارج ہو چکی ہیں، مگر آپ کو پھانسی نہیں لگایا جا رہا، کچھ بتا سکتے ہو؟

تو سرفراز عرف سربجیت نے مجھے ایک تصویر دکھائی جس میں پاکستان کے وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک 2009 میں سربجیت کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔

سرفراز عرف سربجیت نے کہا، ’بھلا مجھے کیوں پھانسی دی جائے گی، حکومتِ پاکستان اور ہندوستان دونوں حکومتوں میں میری رہائی کی بات چیت چل رہی ہے، مجھے صرف عوامی دباؤ کی وجہ سے رہا نہیں کیا جا رہا، حکومتِ پاکستان تو مجھے رہا کرنا چاہتی ہے۔‘

سرفراز عرف سربجیت نے کہا کہ افتخار دیکھ لینا، ایک دن میں ہندوستان میں ہوں گا۔