بےنظیر قتل کیس کے سرکاری وکیل کی’ٹارگٹ کلنگ‘

Image caption ڈاکٹروں کے مطابق چوہدری ذوالفقار علی کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے

پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کو اسلام آباد میں ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی تھانے کے انچارج ارشار ابڑو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے چوہدری ذوالفقار علی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ہمارے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب چوہدری ذوالفقار علی جمعہ کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں واقع اپنے گھر سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت جارہے تھے جہاں پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کے سلسلے میں اُنہوں نے تفتیشی چالان پیش کرنا تھا۔

ملزم پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس در|خواست پر بحث کے لیے اس مقدمے کے سرکاری وکیل کو نوٹس بھی جاری کر رکھا تھا۔

مارگلہ پولیس سٹیشن کے انچارج کے مطابق مقتول چوہدری ذوالفقار جونہی اپنے گھر سے نکلے تو پہلے سے ہی گھات لگائے بیٹھے چار نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے وہ اور اُن کا ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے۔

اُنہیں حملے کے بعد پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا جہاں وہ چل بسے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جب انہیں ہسپتال لایا جا رہا تھا تو وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے تھے۔

اسلام آباد میں پمز ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چوہدری ذوالفقار علی کے لاش کا پوسٹ مارٹم کر دیا گیا ہے اور ان کی موت سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جسم پر زخم کے 17 نشان ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری وکیل کے ڈرائیور نے گاڑی بھگانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک راہگیر خاتون بھی گاڑی کے نیچے آکر ہلاک ہوگئی۔

پولیس کے مطابق چوہدری ذوالفقار پر فائرنگ کرنے والے ملزمان موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسری طرف عینی شاہد ین کے مطابق ملزمان موٹر سائیکلوں پر نہیں بلکہ ایک ٹیکسی میں سوار تھے اور فائرنگ کے بعد وہ اس ٹیکسی میں فرار ہوگئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کافی دیر تک وہاں پر پڑے رہے جبکہ پولیس ایک گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔

پولیس نے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے تاہم ابھی تک اس ضمن میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

چوہدری ذوالفقار علی کے چیمبر میں کام کرنے والے ایک شخص وقار احمد کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی چوہدری ذوالفقار کو مختلف اہم مقدمات میں پیروی کرنے کے حوالے سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور یہ بات اسلام آباد پولیس کے حکام کے نوٹس میں بھی لائی گئی تھی تاہم اُنہوں نے اس ضمن میں نہ تو کوئی سیکورٹی فراہم کی اور نہ ہی ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا۔

اسلام آباد پولیس کے حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ چوہدری ذوالفقار علی نے ان دھمکیوں سے متعلق سکیورٹی حاصل کرنے کے لیے کوئی درخواست دی تھی۔ دوسری جانب بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے چودہ مئی تک ملتوی کردی گئی ہے

نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو طلب کرلیا ہے اور اُن سے اس بارے میں اب تک ہونے والی تفتیش کے بارے میں آگاہ کرنے کو کہا ہے۔

چوہدری ذوالفقار علی کی ہلاکت کے خلاف راولپنڈی اسلام آباد کے وکلا نے آج ہڑتال اور عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں