بھارت میں سربجیت کی آخری رسومات

Image caption سربجیت کی موت پر بھارت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے

پاکستان میں جاسوسی اور بم حملوں کے جرم میں سزایافتہ بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی میت بھارت پہنچا دی گئی ہے اور جمعے کو ان کی آخری رسومات سرکاری طور پر ادا کی جائیں گی۔

سربجیت سنگھ کی سرکاری طور پر امرتسر کے قریب ان کے گاؤں میں ادا کی جانے والی آخری رسومات میں لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ پاکستان میں جاسوسی اور بم حملوں کے جرم میں سزایافتہ تھے۔وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر تھے۔ جمعہ 26 اپریل کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے ان پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم آئے تھے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لاہور کے جناح ہسپتال کے حکام نے بتایا تھا کہ سربجیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعرات کو سربجیت سنگھ کی موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دیا تھا۔

انچاس سالہ سربجیت کی میت کو جمعرات کو پاکستان کے شہر سے لاہور سے ایک خصوصی طیارہ کے ذریعے بھارت کے شہر امرتسر لے جایا گیا جہاں سینکڑوں لوگ ائرپورٹ پر پہنچے تھے اورانہوں نے سربجیت کو شہید کہا۔

سربجیت کی موت پر بھارت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور لوگوں نے پاکستان کے جھنڈے جلائے اور الزام لگایا کہ پاکستان نے انہیں قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

جمعرات کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ نے سربجیت سنگھ کی ہلاکت کے بعد ان پر حملے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

دوران تفتیش انہوں نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انہیں انیس سو اکیانوے میں موت کی سزا سُنائی تھی۔اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

سربجیت سنگھ کی موت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ ’وحشیانہ‘ اقدام کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

Image caption سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے پاکستان سے تمام رابطے منقطع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت پاکستان کو سخت جواب دے

بھاتی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا تھا کہ’ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس کیس پر انسانی ہمدردی کی بینیاد پر غور کرنے کے اپیلوں کو نہیں سنا۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ سلمان خورشید نے سربجیت کی موت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس افسوس ناک واقعے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔‘

اے پی کے مطابق بھارت کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدّین نے مطالبہ کیا تھا کہ سربجیت پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کے لیے تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ’یہ پاکستان کی تحویل میں بھارتی شہری کا قتل تھا۔اس حملے سے اندازہ ہوتا ہے ک پاکستانی جیلوں میں بھارتی شہریوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔‘

بھارتی وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیوری نے کہا تھا کہ ’یہ ایک قتل ہے اور پاکستان بھارتی شہری کو جیل میں تحفظ دینے میں ناکام رہا اور ان کے حقوق کی پامالی کی گئی۔‘

سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور نے پاکستان سے تمام رابطے منقطع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت پاکستان کو سخت جواب دے۔

دلبیر کور کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو متحد ہونا چاہیے اور پاکستان پر حملہ ہونا چاہیے۔ سب کو یک زبان پاکستان کو مردہ آباد بولنے کا وقت ہے۔‘

اسی بارے میں