پاکستان کے انتخابی حلقے: این اے 218 سے این اے 238 تک

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے کی تیرہویں قسط میں این اے 218 سے این اے 238 تک کےانتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

پاکستان کے انتخابات 2013: خصوصی ضمیمہ

اس قسط میں مٹیاری، حیدر آباد، ٹنڈو آدم خان، ٹنڈو اللہ یار خان، بدین، میر پور خاص، عمر کوٹ، تھر پارکر،جامشورو، دادو، سانگھڑ اور ٹھٹہ کے اضلاع شامل ہیں۔

مٹیاری

Image caption اس بار بھی مخدوم امین فہیم امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں

ضلع مٹیاری میں قومی اسمبلی کی ایک نشست این اے 218 ہے جس سے گزشتہ بار پیپلزپارٹی کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر برائے کامرس مخدوم امین فہیم نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس بار بھی وہ اسی حلقے سے امیدوار ہیں۔ایم کیو ایم نے سید غلام شبیر شاہ اور مسلم لیگ فنکشنل نے عبدالرزاق میمن کو ٹکٹ دیا ہے تاہم مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی نے اس حلقے میں کسی کو نامزد نہیں کیا۔

حیدر آباد

ضلع حیدر آباد میں قومی اسبلی کے کل 3 حلقے ہیں۔ این اے 219 میں 2008 میں ایم کیو ایم کے سید طیب حسین نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس بار پارٹی نے خالد مقبول صدیقی کو ٹکٹ دیا ہے۔ان کے مدمقابل 13 امیدواروں میں پی پی پی کے علی محمد سہتو، اے این پی کے ماجد خان اور جماعت اسلامی کے شوکت علی خان کا نام بھی شامل ہے۔

گزشتہ بار این اے 220 کی نشست بھی ایم کیو ایم کے حصہ میں آئی تھی۔ یہاں ایم کیو ایم کے صلاح الدین نے 8 امیدواروں کو شکست دی تھی۔ اس بار اس نشست کے حصول کے لیے ایم کیو ایم نے سید وسیم حسین کو نامزد کیا ہے۔ پی پی پی کی جانب سے محمد صغیر اہم نام ہیں تاہم گزشتہ بار کے برعکس اس بار مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) نے کسی کو نامزد نہیں کیا۔

گزشتہ بار این اے 221 کی نشست پیپلز پارٹی کے سید عامر علی شاہ جاموٹ نے حاصل کی تھی جو اس بار بھی میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی نے سید احمد رشید، ایم کیو ایم نے غازی صلاح الدین اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے عبدالطیف جونیجو کو نامزد کیا ہے۔

ٹنڈو محمد خان

ضلع ٹنڈو محمد خان کی نشست این اے 222 گزشتہ بار پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے جیتی تھی۔

اس بار ان کے مدمقابل 19 امیدوار ہیں جن میں ایم کیو ایم کے محمد انور، پی ٹی آئی کے حسن سردار، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے بشیر احمد شاہ اور مسلم لیگ فنکشنل کے پیر سجاد سعید جان سرہندی اور جماعت اسلامی کے جعفر علی نظامانی کا نام شامل ہے۔

ٹنڈو اللہ یار

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 223 ٹنڈو اللہ یار کم مٹیاری کی نشست پرگزشتہ بار پاکستان پیپلز پارٹی کی شمشاد ستار بچانی نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس بار پارٹی ٹکٹ ان کے شوہر عبدالستار بچانی کو دیا گیا ہے۔ اس حلقے سے مسلم لیگ نون کی ڈاکٹر راحیلہ گل مگسی، ایم کیو ایم کے ساجد وہاب خانزادہ، سندھ ترقی پسند جماعت کے نصرت الطاف حسین جسکانی کا نام 21 امیدواروں کی فہرست میں شامل ہے۔

بدین

Image caption سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا این اے 225 سے امیدوار ہیں

پیپلز پارٹی کے غلام علی نظامانی نے 2008 میں حقلہ این اے 224 بدین کم ٹنڈو محمد خان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ آئندہ انتخابات کے لیے اس نشست سے پی پی پی کا دفاع سردار کمال خان چانگ کر رہے ہیں۔ایم کیو ایم نے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی نے محمد داؤد اور مسلم لیگ فنکشنل نے علی اصغر ہالپیوتو کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 225 کی نشست گزشتہ بار پیپلز پارٹی کی امیدوار اور سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزانے جیتی تھی اس بار بھی 18 امیدواروں کی فہرست میں اہم نام ان کا ہی ہے۔ پی ٹی آئی نے ندیم عباسی، ایم کیو ایم نے اصغر علی پرھیاڑ کو ٹکٹ دیا ہے۔اس نشست کے لیے فہمیدہ مرزا کے مدمقابل امیدواروں میں خاتون امیدواروں میں مسلم لیگ فنکشنل کی یاسمین شاہ بھی شامل ہیں۔

میر پور خاص

Image caption این اے 226 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی نے کامیابی حاصل کی تھی

میر پور خاص میں قومی اسمبلی کے کل تین حلقے ہیں۔گزشتہ انتخابات میں این اے 226 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس بار پی پی پی کا ٹکٹ پیر شفقت حسین شاہ جیلانی کو دیا گیا ہے جو اسی حلقے میں گزشتہ بار آزاد امیدوار تھے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے سید قربان علی شاہ، ایم کیو ایم کے شبیر احمد قائم خانی، جماعت اسلامی کے عزیز الرحمنٰ اور جے یو آئی (ف) کے ڈاکٹر محمد اکرم خان بھی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں۔

2008 میں این اے 227 میں پیپلز پارٹی کے میر منور علی تالپور نے کامیابی حاصل کی تھی اس بار بھی وہ میدان میں مضبوط امیدوار ہیں۔ انہیں کل 23 امیدواروں کا سامنا کرنا ہو گا۔ ان میں جماعت اسلامی کے محمد طاہر جاٹ، پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے شیام شندر کوٹ، مسلم لیگ نون کے چوہدری محمد طارق اور جے یو آئی (ف ) کے حاجی غلام قادر نوحانی کا نام شامل ہے۔

عمر کوٹ

ضلع عمر کوٹ میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ ہے۔گزشتہ بار یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار نواب محمد یوسف تالپور کامیاب ہوئے تھےجبکہ اس بار بھی وہ این اے 228 کی اس نشست کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے مقابل 13 امیدواروں میں اہم نام پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی کا ہے جو اس سے قبل پی پی پی کا ہی حصہ تھے جبکہ جے یو آئی (ف) نے نور محمد کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس حلقے میں مخدوم شاہ محمود قریشی کے مریدین کی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

تھر پارکر

Image caption این اے 229 میں گزشتہ بار مسلم لیگ قاف کے ابرار ذکاء اللہ نے کامیابی حاصل کی تھی

ضلع تھر پارکر میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔این اے 229 میں گزشتہ بار مسلم لیگ قاف کے ابرار ذکاء اللہ نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار وہ میدان میں نہیں ہیں۔ پی پی پی نے فقیر شیر محمد بلالانی، ایم کیو ایم نے منگھارام ایڈووکیٹ اور سندھ ترقی پسند پارٹی نے گومون مل کو ووٹ دیا ہے۔

2008 میں ضلع تھرپاکر کی دوسری نشست این اے 230 بھی مسلم لیگ ق کے امیدوار نے جیتی تھی تاہم جیتنے والے ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو اس بار آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان کا مقابلہ جن گیارہ امیدواروں سے ہو گا ان میں پی پی پی کے پیر نور محمد شاہ جیلانی، ایم کیو ایم کے شیر محمد نھڑی کے علاوہ اہم نام سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ہے جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

جامشورو

ضلع جامشورو میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ این اے 231 ہے جہاں 2008 میں پی پی پی کے نواب عبدالغنی تالپور کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار پیپلز پارٹی نے ملک اسد سکندر کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان کے مدمقابل 15 امیدواروں میں پیپلز پارٹی بھٹو شہید گروپ کے محمد سلیمان اور ایم کیو ایم کے پیر زمان شاہ کا نام بھی شامل ہے۔

دادو

ضلع دادو میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں۔گزشتہ بار این اے 232 میں کامیاب ہونے والے رفیق احمد جمالی اس بار بھی پی پی پی کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ نون نے کریم علی جتوئی، مسلم لیگ فنکشنل نے چاکر خان شابانی اور ایم کیو ایم نے جنید احمد سمیجو کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 233 میں طلعت اقبال مہیسڑ نے مدمقابل نو امیدواروں کو واضح شکست دی تھی جبکہ اس بار عمران ظفر لغاری پی پی پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے قاف لیگ کے سابقہ امیدوار اور سابق وفاقی وزیر لیاقت علی جتوئی میدان میں ہیں۔ایم کیو ایم نے فیروزالدین نریجو کو جبکہ مسلم لیگ فنکشنل نے سید صفدر علی شاہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

سانگھڑ

Image caption این اے 235 کی نشست مسلم لیگ فنکشنل کے غلام دستگیر راجڑ نے حاصل کی تھی

ضلع سانگھڑ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں ہیں۔ این اے 234 میں گزشتہ بار مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار محمد جدام مانگریو نے جیتا تھا اس بار پارٹی ٹکٹ پیر بخش جونیجو کو دیا گیا ہے۔ پی پی پی کی جانب سے روشن الدین جونیجو اور پی ٹی آئی نے غلام زاہد کو ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر محمد ایوب شیخ میدان میں ہیں۔

2008 میں این اے 235 کی نشست مسلم لیگ فنکشنل کے غلام دستگیر راجڑ نے حاصل کی تھی تاہم جعلی ڈگری کیس کے باعث انھوں نے نشست چھوڑ دی تھی جس کے بعد ضمنی انتخابات میں اس نشست پر انہی کی جماعت کےحاجی خدا بخش راجڑ کامیاب ہوئے تھے۔

اس بار فنکشنل لیگ کی جانب سے پیر صدرالدین شاہ راشدی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کا مقابلہ پی پی پی کی امیدوار سابق صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری سے ہو گا۔ ایم کی ایم نے اس حلقے میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار دیوداس کو نامزد کیا گیا ہے۔

حلقہ این اے 236 میں 2008 کا انتخاب جیتنے والے پی پی پی کے روشن دین جونیجو اس بار بار بھی میدان میں ہیں ان کا مقابلہ کرنے والے 13 امیدواروں میں پی ٹی آئی کے غلام زاہد، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر محمد ایوب شیخ اور فنکشنل لیگ کے امام الدین شوقین اہم نام ہیں۔

ٹھٹہ

Image caption مسلم لیگ نون کی امیدوار ماروی میمن

ضلع ٹھٹہ میں قومی اسمبلی کے 2 حلقے میں 2008 میں این اے 237 ٹھٹہ 1 کی نشست پر پی پی پی کے ڈاکٹر عبدالوحید سومرو نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس بار پی پی پی کا ٹکٹ صادق علی میمن کو دیا گیا ہے کیونکہ عبدالوحید پیپلز پارٹی چھوڑ کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔

اس حلقے کے 16 امیدواروں میں ایک اور اہم نام مسلم لیگ نون کی امیدوار ماروی میمن کا ہے جو مسلم لیگ قاف کو خیر باد کہہ چکی ہیں۔اس نشست کے لیے ایم کیو ایم نے غلام محمد خشک کو جبکہ پی ٹی آئی نے سید فضل اللہ شاہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 238 میں گزشتہ بار مسلم لیگ قاف کے سید علی شاہ شیرازی کامیاب ہوئے تھے تاہم اب وہ اس نشست کا دفاع آزاد امیدوار کی حیثیت کررہے ہیں۔ پی پی پی نے رمیزالدین میمن کو ٹکٹ دیا ہے۔مسلم لیگ نون کا کوئی امیدوار اس نشست کے لیے میدان میں نہیں جبکہ ایم کیو ایم نے فہمیدہ شاہ بخاری اور جے یو آئی (ف) نے مفتی نذیر احمد عثمانی کو نامزد کیا ہے۔

اسی بارے میں