پاکستان کے انتخابی حلقے

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں بی بی سی اردو نے قومی اسمبلی کے 272 انتخابی حلقوں کا مختصراً جائزہ لیا ہے جسے سلسلہ وار پیش کیا جائے گا۔اس سلسلے کی چودہویں قسط میں این اے 239سے این اے 258 تک کےانتخابی حلقوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

اس میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے کل بیس حلقے شامل ہیں۔گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی ان بیس نشستوں سے ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومنٹ کے سترہ امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

حلقہ این اے 239 کراچی 1

Image caption پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 کراچی 1 سے گزشتہ بار پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے 13 امیدواروں کو بھاری اکثریت سے شکست دی تھی اس بار میدان میں کل 26 امیدوار ہیں جن میں عبدالقادر پٹیل کے علاوہ ایم کیو ایم کے محمد سلمان خان بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے قاضی فخر الحسن، اے این پی کے سرفراز خان جدون اور پی ٹی آئی کے سبحان علی ساحل کا نام شامل ہے۔

این اے 240

دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں این اے 240 میں کامیاب ہونے والے ایم کیو ایم کے سہیل منصورخواجہ اس بار جن بارہ امیدواروں کا سامنا کر رہے ہیں ان میں پی پی پی کے عابد حسین ستی، جمعیت علمائے اسلام کے مفتی فیض الحق، اے این پی کے کبیر احمد شیر اور جماعت اسلامی کے سید عطا اللہ شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔

اے این 241

2008 میں این اے 241 نے ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری نے مدمقابل 10 امیدواروں کو شکست دی تھی جبکہ اس بار ان کا مقابلہ 18 امیدواروں سے ہو گا۔ان میں پی پی پی نے علی احمد، اے این پی نے سید کرم درویش اور جماعت اسلامی نے محمد لئیق خان کو میدان میں اتارا ہے۔

این اے 242

این اے 242 میں گزشتہ بار کامیاب ہونے والے ڈاکٹر عبدل قادر خانزادہ کے بجائے ایم کیو ایم نے اس بار محبوب عالم کو چنا ہے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ نون نے نجیب اللہ خان نیازی کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ پی پی پی نے باری خان ، مسلم لیگ نون نے نجیب اللہ خان نیازی اور پی ٹی آئی نے اکرم خان پر اعتماد کیا ہے۔

این اے 243 اور 244

گزشتہ انتخابات میں این اے 243 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے عبدل وسیم اس بار بھی میدان میں اہم امیدوار ہیں۔ان کا مقابلہ 8 امیدواروں سے ہو گا۔ پی پی پی نے سید سہیل عابدی، پی ٹی آئی نے زاہد حسین ہاشمی اور جماعت اسلامی نے محمد یوسف کو ٹکٹ دیا ہے۔

گزشتہ بار این اے 244 کی نشست پر ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین کامیاب ہوئے تھے۔آئندہ انتخابات ان کا مقابلہ کل 12 امیدواروں سے ہو گا جن میں پی پی پی کے محمد طاہر خان، جماعت اسلامی کے سید محمد بلال، اور پی ٹی آئی کے خالد مسعود خان کا نام شامل ہے۔

این اے 245 اور 246

Image caption نبیل احمد گبول ایم کیو ایم کا حصہ بن چکے ہیں

حلقہ این اے 245 میں گزشتہ بار ایم کیو ایم کے فرحت محمود خان نے چار امیدواروں کو شکست دی تھی مگر بار محمد ریحان ہاشمی ایم کیو ایم کا دفاع کریں گے جبکہ پی پی پی نے سردار خان، جماعت اسلامی نے ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی کو، پی ٹی آئی نے محمد ریاض حیدر کو اور عوامی مسلم لیگ پاکستان نے ایس ایم بخاری کو ٹکٹ دیا ہے۔

گزشتہ کے انتخابات میں این اے 246 میں ایم کیو ایم کے سفیان یوسف نے پی پی پی کے سہیل انصاری اور آزاد امیدوار سفی اللہ ایڈووکیٹ کو واضح شکست دی تھی اس بار اس نشست کے لیے کل 9 امیدوار میدان میں ہیں جن میں اہم نام پی پی پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے امیدوار نبیل احمد گبول کا ہے جو اب ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

جماعت اسلامی نے راشد نسیم، پی ٹی آئی نے عامر شرجیل اور پی پی پی نے شہزاد مجید کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 247

2008 میں این اے 247 میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ندیم احسان کامیاب ہوئے تھے تاہم اس بار پارٹی نے سفیان یوسف کو نامزد کیا ہے۔ دیگر 11 امیدواروں میں پی پی پی کے اصغر لعل، اور پی ٹی آئی کے راشد صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔

این اے 248

این اے 248 سے گزشتہ بار کا انتخاب پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نبیل احمد گبول نے جیتا تھا تاہم پارٹی سے اختلافات کے باعث انھوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ این اے 246 کے علاوہ اس نشست کے امیدوار بھی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس نشست کے لیے شاہ جہاں بلوچ کو نامزد کیا ہے جبکہ 13 امیدواروں کی فہرست میں ایک اور اہم نام پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنوی بھٹو کا ہے۔ مسلم لیگ نون نے اس بار اس نشست کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا۔

این اے 249

Image caption ڈاکٹر فاروق ستار اس بار بھی اپنی جماعت کا دفاع کر رہے ہیں

این اے 249 سے گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے ڈاکٹر فاروق ستار اس بار بھی اپنی جماعت کا دفاع کر رہے ہیں۔ مدمقابل دس امیدواروں میں پی پی پی نے عبدالعزیز میمن اور مسلم لیگ فنکشنل نے شبیر احمد قائم خانی جبکہ عوامی مسلم لیگ پاکستان نے محبوب آفتاب کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 250 اور 251

Image caption کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت

حلقہ این اے 250 میں گزشتہ بار ایم کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت نے برتری حاصل کی تھی اس بار بھی وہ اسی نشست کا دفاع کر رہی ہیں۔ ان کے مدمقابل 31 امیدواروں میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی، پی پی پی کے راشد ربانی، اے این پی کے سید محمد حنیف، جمعیت علمائے اسلام کے محمد عبداللہ عرف مفتی کفایت اللہ کا نام بھی شامل ہے۔

این اے 251 میں 2008 میں بھاری اکثریث سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وسیم اختر اس بار اس نشست کے امیدوار نہیں۔ ایم کیو ایم نے سید علی رضا عابدی کو میدان میں اتارا ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی کل تعداد 18 ہے جن میں پی پی پی کے ذوالفقار علی قائم حانی، پی ٹی آئی کے راجہ اظہر علی خان، مسلم لیگ نون کے سید محمد نہال ہاشمی اور جماعت اسلامی کے زاہد سعید کا نام شامل ہے۔

این اے 252

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 میں گزشتہ بار کامیابی حاصل کرنے والے ایم کیو ایم کے راہمنا عبدلرشید گوڈیل اس بار بھی میدان میں ہیں۔ اس بار بھی ان کے مدمقابل اہم نام پی پی ہی کے سید اصغر حسین کا ہی ہے۔ اس نشست کے لیے مسلم لگ قاف نے پرفیسر رانا سعید احمد کو، پی ٹی آئی نے سید علی حیدر زیدی اور جماعت اسلامنی نے محمد حسین محنتی کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 253 اور 254

Image caption ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی

سال دو ہزار آٹھ میں حلقہ این اے 253 میں ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی نے پی پی پی کے فیصل رضا عابدی سمیت سترہ امیدواروں پر برتری حاصل کی تھی۔ اس بار پارٹی نے محمد مزمل قریشی کو نامزد کیا ہے۔

اس نشست کے 30 امیدواروں میں پی پی پی کی جانب سے محمد مراد بلوچ جبکہ اے این پی کی جانب سے ارشاد خان میدان میں ہیں۔ جماعت اسلامی نے اسد اللہ بھٹو کو اور پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو نے خواجہ غلام حسین کو نامزد کیا ہے۔

این اے 254 میں گزشتہ بار متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹرمحمد ایوب شیخ نے کامیابی حاصل کی تھی اس بار ایم کیو ایم کا دفاع شیغ محمد افضل خالد عمر نے کرنا تھا تاہم 3 مئی کو بم حملے میں اے این پی کے امیدوار صادق زمان کی ہلاکت کے باعث اس حلقے میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا ہے۔

این اے 255

اس بار این اے 255 کی نشست کے لیے کل 11 امیدوار مد مقابل ہیں۔ گزشتہ بار یہ نشست ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین نے جیتی تھی وہ اب بھی اس حلقے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ دیگر ناموں میں پی پی پی کے جاوید شیخ، اے این پی کے عبدالرحمن خان یوسفزئی اور پی ٹی آئی کے خالد محمد علی کا نام بھی شامل ہے۔

این اے 256

گزشتہ انتخابات میں این اے 256 میں ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی خان نے کامیابی حاصل کی تھی اس بار بھی پارٹی نے انہیں پر اعتماد کیا ہے۔ ان کے مقابل پی ٹی آئی نے محمد زبیر خان، اے این پی نے محمد یونس خان اور پی پی پی نے سید منظور عباس کو ٹکٹ دیا ہے۔

این اے 257 اور 258

Image caption ایم کیو ایم کے ساجد احمد اس بار بھی میدان میں ہیں

این اے 257 سے 2008 کا انتخاب جیتنے والے ایم کیو ایم کے ساجد احمد اس بار بھی میدان میں ہیں۔ ان کے مقابل 18 امیدواروں کی فہرست میں پی پی پی کا ٹکٹ نسیم خان کو، مسلم لیگ نون نے زین انصاری کو، اے این پی نے امان مسعود کو جبکہ جماعت اسلامی نے توفیق الدین صدیقی کو دیا ہے۔

اسی حلقے سے پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سربراہ غنوی بھٹو بھی میدان میں ہیں۔

این اے 258 صوبہ سندھ سے قومی اسمبلی کا آخری حلقہ ہے۔گزشتہ بار اس نشست پر پیپلز پارٹی کے شیر محمد بلوچ کامیاب ہوئے تھے تاہم اس بار اس نشست کا دفاع کرنے کے لیے پی پی پی نے عبدالزاق راجہ کو ٹکٹ دیا ہے۔

دیگر امیدواروں میں مسلم لیگ نون نے عبدالحکیم بلوچ، ایم کیو ایم کے احمد گبول، مسلم لیگ قاف کے حلیم عادل شیخ، اے این پی کے سلطان خان مندوخیل اور پی ٹی آئی کے قربان علی سمیت 29 امیدوار میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں