الیکشن 2013:ووٹنگ کی شرح کا اہم کردار

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور بیشتر بڑی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ میدان مار لیں گی، لیکن کئی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اس الیکشن کے نتائج کا دارومدار ’ٹرن آؤٹ‘ پر ہوگا۔

پاکستان کے انتخابات 2013: خصوصی ضمیمہ

2008 کے انتخابی نتائج کا نقشہ

انیس سو ستر اور انیس سو ستتر میں ہونے والے عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ ساٹھ فیصد کے قریب رہا تھا اور اس کے بعد ہونے والے چھ عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح پینتیس سے ساڑھے پینتالیس فیصد کے درمیاں ہی رہی۔

انیس سو ستانوے میں جب مسلم لیگ (ن) نے دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی، اس وقت ووٹنگ کی شرح پینتیس اعشاریہ دو فیصد رہی تھی جبکہ انیس سو اٹھاسی سے سنہ دو ہزار آٹھ تک ہونے والے دیگر پانچ انتخابات میں یہ شرح اکتالیس فیصد سے زیادہ رہی ہے۔

چند روز کے بعد گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ووٹنگ کی شرح ساٹھ فیصد یا اس بھی زائد ہوسکتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ چار کروڑ سے زائد جعلی ووٹوں کا اخراج اور اس سے زیادہ تعداد میں نئے اور نوجوان ووٹرز کا اندراج ہے۔ اس بار نوجوان انتخابی سرگرمیوں میں ماضی کی نسبت کچھ زیادہ سرگرم بھی نظر آتے ہیں۔

اگر ووٹنگ کی شرح ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو عمران خان کو نمایاں کامیابی مل سکتی ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اکیلے حکومت شاید نہیں بنا پائیں۔ عمران خان جس طرح ’سولو فلائی‘ کر رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے علاوہ سب کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ وہ کس سے مل کر حکومت بنائیں گے؟

اگر ووٹنگ کی شرح پچاس فیصد سے کم رہتی ہے تو کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملے گی اور معلق پارلیمان وجود میں آسکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت بھی مخلوط اور کمزور ہوگی اور پارلیمان شاید ہی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر پائے۔

ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے جلسے جلوس اور انتخابی سرگرمیاں دیکھ کر الیکشن سے چند روز قبل تک یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہوتا تھا کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے اور جیت کے امکانات کس کے ہوں گے؟ لیکن اب کی بار وثوق سے یہ کہنا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، مشکل ہے کیونکہ طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے تین اہم جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومینٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم محدود ہے۔ تینوں جماعتیں بڑے جلسے جلوس نہیں کر پا رہیں اور انہیں شکایت ہے کہ ان کا راستہ روکا جا رہا ہے۔

اب تک بڑے جلسے جلوس کرنے والی جماعتوں میں جمیعت علماء اسلام (ف)، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) شامل ہیں۔ لیکن نظریہ ضرورت کے تحت وجود میں آنے والی مسلم لیگ (ق) کا شمار دائیں بازو کی جماعتوں میں ہوتا ہے اور انہیں بظاہر طالبان نے کوئی دھمکی بھی نہیں دی لیکن وہ تاحال کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔

ملکی سطح پر بڑے جلسے جلوس کرنے کے اعتبار سے اگر دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف میں مقابلہ نظر آتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تاحال سندھ اور بلوچستان میں محدود پیمانے پر جلسے کیے ہیں لیکن وسطی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں دونوں کے جلسے ’سیر پر سوا سیر‘ کی مصداق رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا گڑھ ہزارہ ڈویژن سمجھا جاتا رہا ہے لیکن وہاں عمران خان نے جو جلسہ کیا ہے اس سے صورتحال دلچسپ ہوگئی ہے اور کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) ہزارہ کے علاوہ دیگر شہروں میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی لیکن عمران خان نے صوابی، چارسدہ اور دیگر شہروں میں جو جلسے کیے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو مسلم لیگ (ن) پر سبقت حاصل ہے۔

پاکستان کی نصف آبادی سے زائد حصہ رکھنے والا صوبہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کے قیام کے بعد سے ان کا مضبوط قلعہ نظر آتا رہا ہے۔ لیکن اب کی بار عمران خان نے پنجاب میں بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے بہت بڑا دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ ماضی میں پنجاب میں ہمیشہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کی حریف نظر آتی رہی ہیں اس بار تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ بن گیا ہے۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ دائیں بازو کی سوچ رکھنے والی جماعتیں بنا اتحاد کے الیکشن لڑ رہی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار ملک بھر میں اور بالخصوص پنجاب میں دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کا ووٹ تقسیم ہوگا۔ ماضی میں ہمیشہ مسلم لیگ (ن) اور مذہبی جماعتیں مل کر پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن اب کی بار صورتحال یکسر مختلف ہے اور اس کا پیپلز پارٹی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر ووٹنگ کی شرح ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو عمران خان کی حکومت بن سکتی ہے اور ووٹنگ کی شرح پچاس فیصد یا اس سے کم رہنے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی بڑے سٹیک ہولڈر ہوسکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں ‘جمہوریت کی خاطر’ دونوں جماعتوں میں اتحاد کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ‘نواز زرداری بھائی بھائی’ کی وجہ پہلے تو پرویز مشرف بنے تھے لیکن اب کی بار اس کا کریڈٹ عمران خان کو جائے گا۔

اسی بارے میں