آپ نے اپنے لیے گیارہ مئی کو نکلنا ہے: عمران خان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ہسپتال سے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ گیارہ مئی کو اپنی حالت بدلنے کی لیے نکلیں اور یہ نہ دیکھیں کہ کون امیدوار کھڑا ہے بلکہ نظریے کو ووٹ دیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے 17 سال پاکستان کے لیے لڑے ہیں اور جو وہ کر سکتے تھے وہ انھوں نے کیا، اب عوام کو 11 مئی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ نیا پاکستان چاہیے یا نہیں۔

اس سے قبل منگل کی شام کو عمران خان لاہور میں جلسے کے لیے تیار کردہ سٹیج پر چڑھتے ہوئے گر کر زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عمران خان ایک لفٹر کے ذریعے سٹیج پر جا رہے تھے کہ نیچے گر گئے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق عمران خان کے سر پر کافی چوٹ آئی ہے اور انہیں ٹانکے لگائے گئے ہیں۔عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کے مزید ٹیسٹ اور سکین کیے جائیں گے۔

شوکت خانم ہسپتال میں زیرِعلاج زخمی حالت میں عمران خان نے کہا کہ 11 مئی کو عوام اپنی جنگ کا دن سمجھیں اور شخصیات اور برادری کے بجائے نظریے کو ووٹ دیں۔

دو منٹ کے ویڈیو پیغام میں عمران نے کہا کہ وہ اب یہ چاہتے ہیں کہ عوام گیارہ مئی کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کی خود ذمے داری لیں۔

عمران خان نے کہا کہ جتنا وہ کرسکتے تھے انھوں نے وہ اپنے ملک کے لیے کیا اور یہ کسی پر کوئی احسان نہیں ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گیارہ مئی کو اپنی جنگ سمجھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ میری جنگ نہیں ہے، بلکہ بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یہی نظام چاہتے ہیں یا ان کو نیا پاکستان چاہیے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ایسے ملک کے لیے جہاں عزت، حقوق اور انصاف ہو اس کے لیے گیارہ مئی کو نکلنا ہو گا۔

تحریک انصاف کے زخمی سربراہ نے کہا کہ گیارہ مئی کو یہ نہ دیکھیں کہ تحریک انصاف کا کونسا امیدوار کھڑا ہے بلکہ نظریے کو ووٹ دیں۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور تحریکِ انصاف کے انتخابی حریف شہباز شریف عمران خان کی عیادت کے لیے شوکت خانم ہسپتال پہنچ گئے ہیں۔

میاں شہباز شریف نے عمران کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور ان کے لیے اپنی اور اپنے بھائی میاں نواز شریف کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبر کے مطابق عمران خان نے میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

’خطرے والی بات نہیں‘

شوکت خانم میموریل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے صحافیوں کو بتایا کہ عمران خان ٹھیک ہیں، وہ اپنے جسم کو ہلا سکتے ہیں، ہوش میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان نے ان سے ملنے والوں کو پہچانا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی کمر پر دو معمولی فریکچر آئے ہیں جو خطرے والی بات نہیں ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ عمران خان کو جمعرات تک ہسپتال میں آرام کروایا جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق تحریکِ انصاف کے چیئرمن منگل کی شام لاہور میں غالب مارکیٹ میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے آئے تھے۔ سٹیج پر پہنچنے کے لیے ان کو لفٹر پر کھڑا کیا گیا۔ ان کے محافظ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اچانک توازن خراب ہونے کے باعث عمران خان اور ان کے محافظ گر گئے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عمران خان کو فضل ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد شوکت خانم میموریل ہپستال کر دیا گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد نجی ہسپتال میں موجود ہے جبکہ ہسپتال کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور میڈیا اور کارکنوں کو اندر جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ عمران خان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

سٹیج زمین سے بارہ سے پندرہ فٹ کی بلندی پر بنایا گیا تھا۔عمران خان چوٹ لگنے کے باعث نیم بے ہوش ہوگئے تھے۔

پاکستان کے سابق سپن بالر عبدالقادر جو عمران کے جلسے میں شریک تھے، انہوں نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ عمران کے سر پر چوٹیں آئیں اور خون بہہ رہا تھا۔

ادھر پاکستان کے مختلف سیاسی رہنماؤں، صدر، اور نگران وزیرِ اعظم کی جانب سے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی جا رہی ہے۔

Image caption ڈاکٹروں کے مطابق عمران خان کی کمر پر دو فریکچر ہوئے ہیں لیکن کوئی تشویش ناک بات نہیں ہے

پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک رہنما اسد عمر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کےسر پر چوٹ آئی ہے لیکن وہ ہوش میں ہیں۔اسد عمر نے اپنےٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سی ٹی سکین کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ صرف ایک معمولی سا فریکچر ہے۔ عمران خان انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گے تاہم اس وقت وہ کافی تکلیف میں ہیں۔

عمران خان کے سٹیج سے گرنے کی خبر پر سوشل میڈیا ایک دم جاگ اٹھا۔ جہاں دعاؤں اور تمناؤں کی ٹویٹس تھیں وہیں لوگ ان کی صحت اور سلامتی کی خبریں لکھ رہے تھے۔

شیراز خان نے ٹویٹ کی ’گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں، جلد صحتیاب ہوں عمران خان۔‘

ایک اور نوجوان نے ٹویٹ کی کہ ’کاش میں لاہور میں ہوتا تاکہ میں عمران خان کو خون دے سکتا کیونکہ میرا خون ان سے ملتا ہے۔‘

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے گر کر ملک کو ایک نکتے پر یکجا کیا ہے اور ہر کوئی بلا سیاسی تفریق ان کی صحت کے لیے دعا کر رہا ہے۔

اسی بارے میں