فوجیوں کی سیاسی جماعتیں اور انتخابات

Image caption جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سال دو ہزار دس میں اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا

پاکستان میں زیادہ عرصہ فوجی حکومتیں اقتدار میں رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کئی جرنیل اپنی ریٹامنٹ کے بعد سیاست میں آئے اور ان میں سے بعض نے اپنی سیاسی جماعتیں بھی بنائیں۔

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ڈھائی سو کے قریب سیاسی جماعتوں میں چند ایک سابق جرنیلوں کی ہیں لیکن یہ جماعتیں انتخابی عمل میں متحرک نہیں ۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سابق جرنیلوں نے سیاسی جماعتیں تو بنائیں لیکن ان کو عوامی پذیرائی نہ مل سکی کیونکہ سابق فوجی کا انداز عوامی نہیں ہوتا۔

ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان ، جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ان فوجی سربراہوں میں نمایاں ہیں جنہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی جماعتیں قائم کیں۔

سابق صدر جنرل ایوب خان واحد جرنیل تھے جو اپنے اقتدار کے دوران اپنی حامی جماعت مسلم لیگ کنونشن کے سربراہ بنے تاہم اس جماعت کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عکسری رضوی کا کہنا ہے کہ سابق جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد سویلین کی حیثیت سے مصروف زندگی گزرنے کے لیے سیاسی جماعت بنا لیتے ہیں۔

ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغرخان واحد فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے دو جماعتیں یعنی جسٹس پارٹی اور تحریکِ استقلال بنائی تاہم انہوں نے باری باری دونوں جماعتیں دوسری جماعتوں میں ضم کردیں۔

ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے اپنی سیاست کا آغاز سابق جنرل ایوب خان کی مخالفت سے کیا۔

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد مسلم لیگ جونیجو سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور اس کے سینیئر نائب صدر مقرر ہوئے تاہم جلد ہی انہوں نے مسلم لیگ جونیجو کو خیرباد کہہ دیا اور کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے لاہور میں اپنی جماعت عوامی قیادت پارٹی کی بنیاد رکھی۔

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کی جماعت عوامی قیادت پارٹی نےعام انتخابات میں حصہ لیا تاہم جنرل مرزا اسلم بیگ خود امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آئے۔

آٹھ برس تک اقتدار میں رہنے اور مسلم لیگ قاف کی سرپرستی کرنے کے بعد سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سال دو ہزار دس میں اپنی سیاسی جماعت یعنی آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا۔

آل پاکستان مسلم لیگ ایسی جماعت ہے جس کے قیام کا اعلان بیرون ملک سے کیا گیا۔

Image caption ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے کئی انتخابات میں حصہ لیا لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی

جنرل ایوب خان کی جماعت کے سیکرٹری ملک قاسم کا تعلق بھی فوج سے تھا اور وہ بحریہ میں ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔

سابق صدر جنرل ایوب خان کا خاندان ابھی سیاست میں ہے تاہم ان کے بیٹے کیپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر انتخاب لڑتے رہے جبکہ جنرل ایوب کے پوتے عمر ایوب نے پہلے مسلم لیگ قاف کی طرف سے انتخاب لڑا اور اب وہ مسلم لیگ نون کے امیدوار ہیں۔

ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے کئی انتخابات میں حصہ لیا لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔تحریک استقلال جہاں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد میں شامل رہی وہیں پیپلز پارٹی کے ساتھ بننے والے سیاسی اتحاد کا حصہ بھی بنی۔

ایئر مارشل ریٹائرڈ نے اپنی جماعت جسٹس پارٹی کو پاکستان جمہوری پارٹی میں ضم کردیا اور اب تحریک استقلال کو تحریک انصاف میں شامل کردیا۔

آل پاکستان مسلم لیگ نے اپنے امیدوار کھڑے کیے اور پارٹی کے سربراہ جنرل مشرف نے خود بھی قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

تاہم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نااہلی کے بعد آل پاکستان مسلم لیگ نے گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کی جماعت نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں شرکت نہیں کی اور اب گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں عوامی قیادت پارٹی دکھائی نہیں دے رہی۔

سابق فوجی سربراہ کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ حمید گل نے تحریک اتحاد کے نام سے ایک جماعت بنائی تھی تاہم یہ جماعت الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ نہیں۔

جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھی جنرل فیض چشتی نے بھی تعمیر پاکستان کے نام سے الیکشن کمیشن کے پاس سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرائی ہے جبکہ جنرل ضیاء الحق کے بیٹوں نے اپنے والد کے نام ضیاء سے مسلم لیگ کا دھڑا بنا رکھا۔

اسی بارے میں