پیپلز پارٹی کی دبی دبی انتخابی مہم

Image caption لڑکانہ شروع سے ہی پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے

لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کے آبائی گاؤں نوڈیرو میں پاکستانی انتخابات کے سلسلے میں لوگوں کا جوش و خروش کم ہے۔

ایک گھر کے عقبی کمرے میں ایک خاتون عینک لگائے سفید شال میں لپٹی بیٹھی ہیں اور ان کے گرد درجنوں خواتین کارکن جمع ہیں اور وہ ووٹ والے دن کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

وہ کوئی عام امیدوار نہیں ہیں۔ وہ صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور ہیں اور وہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو کے انتخابی حلقے سے میدان میں ہیں۔

ادّی فریال یا بہن فریال کے نام سے جانی جانے والی فریال تالپور گزشتہ پانچ برسوں سے پارٹی کی سب سے بااثر خاتون رہی ہیں۔

ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے لیکن حکومت اور پارٹی کے معاملات پر انھوں نے خاطر خواہ اثر ڈالا ہے۔

ملک کے سربراہ ہونے کی وجہ سے آصف زرداری کھلے طور سے اپنی پارٹی کے لیے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔

ان کے بیٹے اور پارٹی کے نوجوان رہنما بلاول بھٹو زرداری بظاہر طالبان کی جانب سے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انتخابی مہم سے دور ہیں۔

اسی وجہ سے فریال تالپور پی پی پی کی ذرا مدھم انتخابی مہم کی انچارج ہیں۔

Image caption انتخابی مہم میں مرکزی رہنماؤں کی عدم موجودگی میں فریال تالپور پیپلز پارٹی کی اہم رہنما کے طور پر ابھری ہیں

بھٹو خاندان کے کرشماتی مرکزی رہنماؤں کی عدم موجودگی میں پیپلز پارٹی کی اپنے حامیوں کو یکجا کرنے کی کوشش متاثر ہوئی ہے۔

پارٹی کے امیدواروں کو ناراض عوام کی جانب سے ان کی حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے لاڑکانہ بھٹو خاندان کا گڑھ رہا ہے۔

سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کو بے نظیر بھٹو کی موت پر ہمدردی کی بنیاد پر انتخابات میں زبردست کامیابی ملی تھی۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ پانچ سال بعد بھی پیپلز پارٹی ان کی موت کا استعمال کرکے دوبارہ انتخابات جیتنے کی کوشش میں ہے۔

پیپلز پارٹی کے جذباتی ٹی وی اشتہارات بے نظیر بھٹو کے قتل کے گرد تیار کیے گئے ہیں اور ان میں حکومت کی کارکردگی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

فریال تالپور نے کہا: ’آج اگر ہم آپ سے بے نظیر بھٹو کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی بھی ہماری رہنما ہیں وہ عظیم علامتی شخصیت ہیں۔‘

وہ پوری شدت کے ساتھ حکومت میں اپنی پارٹی کی کارکردگی کا دفاع کرتی ہیں کہ حکومت نے سڑکیں، سکول، ہسپتال بنانے اور روزگار پیدا کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔

Image caption طالبان کی جانب سے حملوں کے خطرے کے پیش نظر پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم سرد مہری کا شکار ہے

لیکن ان کی پارٹی کے تعلق سے لوگوں میں بڑھتی مایوسی ہے۔ بہت سے ووٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے انہیں مایوس کیا ہے اور ان کے مقامی رہنما ان سے دور رہے ہیں۔

عماد علی میر بہار مٹی کی ایک جھونپڑی میں کریانہ کی دکان چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اب کی بار ایسا نہیں کریں گے۔

عماد علی میر بہار کا کہنا ہے: ’جس طرح بے نظیر عوام کا خیال رکھتی تھیں ان کے وزراء عوام کا خیال نہیں رکھتے۔وہ اپنی جائیداد اور قیمتی کاروں کی خریداری میں مشغول تھے جبکہ ہم جیسے لوگ مشکلات سے دو چار۔‘

پیپلز پارٹی سے مایوسی نے مقامی چھوٹی پارٹیوں کو بھٹو کے گڑھ میں نقب لگانے میں مدد دی ہے۔

ٹی وی کی کمپیئر اور ریٹائرڈ سول سرونٹ مہتاب اکبر راشدی مسلم لیگ (ف) کی جانب سے اس انتخابات میں امیدوار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے سابقہ حکومت کو سزا دینے پر مصر ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اب مسائل کے حل کے لیے لوگ پی پی پی کی جانب نہیں دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں برے نظام حکومت، لا قانونیت اور تاریخی بدعنوانی کا مزہ چکھا ہے۔ اس لیے بے نظیر بھٹّو سے جذباتی لگاؤ کے باوجود وہ اس بار ان کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں