’ہم کیوں ووٹ دیں ہمارے لیے کیا ہے اس میں؟‘

مسکین علی کا قد درمیانہ اور جسم پتلا مگر چست ہے۔ سر اور داڑھی کے شعلوں کی طرح سلگتے سرخ بال کہہ رہے ہیں کہ ان پر تازہ تازہ مہندی لگی ہے۔ میرے ہاتھ میں کیمرا دیکھ کر میری جانب آئے اور بولے ’یہاں تصویریں کھینچنا منع ہے ۔ یہ بارڈر کا علاقہ ہے۔‘

جموں اور کشمیر کی سرحد سے قریباً پانچ سو میٹر دور پاکستان کے شمال مشرق میں سیالکوٹ سیکٹر کا گاؤں جھمیاں وہ جگہ ہے جہاں محض چودہ کچےگھر ہیں جو تین اطراف سے کھیتوں میں گھرے ہیں۔

چوتھی جانب قریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر باڑ کے ساتھ قطار میں لگی لائٹیں بھارت اور پاکستان کے درمیان حد بندی ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ملکوں کی چیک پوسٹیں یہاں سے صاف نظر آتی ہیں۔ آس پاس کھیتوں میں گندم اپنے جوبن پر ہے اور فضا میں انتہا کا سکون ہے۔

مسکین علی اپنا ووٹ اسی کو دینا چاہتے ہیں جو ان کے لیے کچھ کرے۔ ان کا گاؤں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو گیارہ اور پی پی ایک سو پچیس کا علاقہ ہے جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور مسلم لیگ ن کے رہنما ارمغان سبحانی کے درمیان اصل مقابلہ ہے تاہم مسکین علی سے ابھی کوئی ووٹ مانگنے نہیں آیا۔

مسکین علی کہتے ہیں ’ووٹ بہت ہے ہمارا۔ خاندان پھیلا ہوا ہے ۔ جہاں ایک ووٹ دے گا وہاں سارے ووٹ دیں گے ۔ لیکن ہم کیوں ووٹ دیں ہمارے لیے کیا ہے اس میں۔‘

مسکین علی کے مطابق جھمیاں میں اس سے پہلے کبھی کوئی میڈیا کا نمائندہ بھی نہیں پہنچا لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو تاکہ ان کی آواز حکمرانوں تک پہنچ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گاؤں میں سکول نہیں ہے، ڈاکٹر یہاں کوئی نہیں، ہمارے گاؤں کا راستہ کوئی نہیں ہے ۔ابھی اگر بارش ہوئی تو آپ واپس نہیں جا سکیں گی۔‘

مسکین علی انیس سو پچاس میں لگائے گئے ٹرانسفارمر کی طرف اشارہ کر کے بتاتے ہیں کہ گاؤں کو بجلی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔

’ہمارا خون کھولتا ہے جب ان کی (سرحد کے اس پار) بتی جلتی ہے ہمارے ہاں اندھیرا ۔ صبح کی اذان ہو تو بتی لے جاتے ہیں شام کی اذانیں ہوں تو بتی لے جاتے ہیں، بتی ہو تو بندہ اذان کھل کے دے سکتا ہے جو انہیں بھی سنائی دے ۔‘

مسکین علی تقریباًً سات ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ گھر میں چھ افراد ہیں۔ سب کا رہن سہن انتہائی سادہ ہے۔ گزر بسر اچھی ہو جاتی ہے ۔ وہ یہاں سے کہیں جانا بھی نہیں چاہتے ۔ لیکن اپنے ہی گھر اور اپنی ہی زمینوں پر انہیں ملکیت محسوس نہیں ہوتی ۔

’میں اپنے صحن میں اس درخت کو بھی اپنی مرضی سے نہیں کاٹ سکتا۔ میری زمین میں بند بنا دیا ہے۔ مجھے آج تک ایک روپیہ معاوضہ نہیں دیا ۔لیکن کھیتی باڑی کرتے ہیں ، کھیتی باڑی سے تو نہیں روک سکتی نا گورنمنٹ۔‘

مسکین علی اور ان کا خاندان ، تقسیم کے بعد، سن پینسٹھ اور اکہتر کی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں کا سامنا کر چکے ہیں ۔

سات سال تک دونوں ملکوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر ان کے گھر کی دیواریں چھلنی ہوتی رہیں لیکن تمام تر شکوؤں اور شکایتوں کے باوجود ان کا جذبہ حب الوطنی قائم ہے۔

انہیں سیاستدانوں سے شکایت ہے لیکن وہ کہتے ہیں ’ڈاکٹر فردوس ساڈے تائے چاچے دی تی نئی ، لیکن شاباش میں اونہوں اِک گل دی ضرور دیناں کہ او جتھے وی گئی اے دنیا اچ ، اونے سر توں لیڑا نئی لایا کدی وی‘

’ڈاکٹر فردوس ہماری رشتے دار نہیں ، لیکن میں اسے اس بات کی شاباش ضرور دیتا ہوں کہ وہ دنیا میں جہاں بھی گئی اس نے سر سے دوپٹہ نہیں اترنے دیا کبھی بھی۔‘

اسی بارے میں