پنجاب، کے پی کے میں 54 ہزار فوجی تعینات

پاکستان کے عام انتخابات کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گیارہ مئی کو صوبہ پنجاب میں 3 لاکھ جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 96 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ بدھ کو لاہور اور پشاور میں پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاسوں میں کیا گیا جن میں ان دونوں صوبوں میں پولنگ کے دن کے لیے سکیورٹی پلان کی منظوری دی گئی۔

پاکستان کے انتخابات 2013: خصوصی ضمیمہ

2008 کے انتخابی نتائج کا نقشہ

لاہور میں اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دن پنجاب میں تعینات کیے جانے والے اہلکاروں میں پولیس، خصوصی فورس، رینجرز اور قومی رضاکار دستے کے دو لاکھ ساٹھ ہزار ارکان شامل ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں 32 ہزار فوجی جوان بھی الیکشن کے دن ڈیوٹی پر ہوں گے اور ان تمام اہلکاروں کو ان کی متعلقہ پوزیشنوں پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ حساس علاقوں کی فضائی نگرانی کی جائےگی۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہدایت کی ہے کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لا ئی جائیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج کی زیر نگرانی بیلٹ پیپروں کی ترسیل کا بانوے فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے اور بلوچستان کے انتخابی حلقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بیلٹ پیپر اور دیگر سامان پہنچایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج سول حکومت کی معاونت کے لیے آئی ہے اور پولنگ مراکز کے اندر فوج تعینات نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اگر کہیں سے کوئی خطرہ اور اطلاع موصول ہوئی تو فوج ’رسپانس‘ کرے گی اور فوج کی سریع الحرکت فورس کو ہیلی کاپٹر بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔

لاہور کے بعد بدھ کی ہی شام پشاور میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے صحافیوں کو بتایا کہ سکیورٹی پلان کے مطابق فاٹا اور خیبر پختونخوا میں پولنگ کے دن کے لیے کل چھیانوے ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جن میں سے بائیس ہزار فوجی اور باون ہزار پولیس اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بیلٹ پیپرز کی تقسیم کا سلسلہ پانچ مئی سے شروع کر دیا گیا تھا اور جہاں بیشتر اضلاع میں سڑک کے راستے بیلٹ پیپر پہنچائے گئے وہیں چار اضلاع میں ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا گیا ہے ۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ بعض علاقوں میں پولنگ سٹاف اور ووٹرز کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں تو ان ا کہنا تھا کہ اس بارے میں جائزہ لیا جا رہا ہے اور شر پسندوں کی کوششوں کو ہر ممکن روکا جائے گا تاکہ پر امن انتخابات منعقدکیے جا سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ انتخابات کے موقع پر چاروں صوبہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ منگل کو انہوں نے کراچی اور اس سے قبل کوئٹہ میں اسی قسم کے اجلاسوں کی صدارت کی تھی۔ بلوچستان کے سکیورٹی منصوبے کے تحت صوبے میں الیکشن کے لیے پاکستانی فوج کے 7 ہزار جوانوں سمیت 62 ہزار سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی دیں گے۔

اسی بارے میں