انتخابات میں ’ہوا‘ کا کردار

Image caption لگتا کہ اس بار ہوا کا رخ عمران خان کی تحریکِ انصاف کی جانب ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پچھلے دو تین انتخابات کے دوران ’ہوا‘ کا کردار بڑا اہم رہا ہے اور ماضی میں ’ہوا‘ کا رخ یا عوام کا رحجان جن جماعتوں کی جانب زیادہ رہا ہے وہی پارٹیاں الیکشن جیت کر حکومتیں بناتی رہی ہیں۔ گیارہ مئی کے عام انتخابات میں بھی واضح طور پر ’ہوا’ کا رخ ایک جماعت کی جانب ہونے کی بات ہو رہی ہے۔

2002 میں جب عام انتخابات کا انعقاد ہورہا تھا تو میں ان دنوں میں پشاور میں ایک انگریزی اخبار سے وابستہ تھا۔ الیکشن سے قبل مجھے یہ ذمے داری سونپی گئی کہ میں نے صوبے کے چند اہم اضلاع کا تفصیلی دورہ کرکے یہ جائزہ لینا ہے کہ آنے والے انتخابات میں کن کن سیاسی جماعتوں کی پوزیشن اچھی ہے۔

ان دنوں الیکشن مہم کے دوران بالکل صاف طور نظر آرہا تھا کہ چھ دینی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ایم ایم اے کی پوزیشن دیگر جماعتوں کے مقابلے میں سب سے بہتر ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگوں سے ان کی رائے پوچھتے تو وہ بھی سب یک زبان ہوکر کہتے کہ ایم ایم اے جیتی گی۔ لیکن یہ بات تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ ایم ایم اے اتنا بڑا اپ سیٹ کرے گی۔

لیکن پھر وہی کچھ ہوا جو انتخابی مہم کے دوران ہوا، یعنی ایم ایم اے نے نہ صرف تاریخی کامیابی حاصل کی بلکہ بعد میں کسی جماعت کی حمایت کے بغیر صوبے میں حکومت بھی بنا ڈالی۔

2008 کے انتخابات میں بھی لک بھگ یہی صورتِ حال تھی۔ صوبے اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی زور پکڑتی جارہی تھی۔ کچھ علاقوں میں فوج کی طرف سے آپریشن کا آغاز بھی کیا جا چکا تھا ۔ ایم ایم اے کے دورِ حکومت میں شدت پسند تنظیموں نے سر اٹھانا شروع کردیا تھا جس سے عوام میں سخت تشویش کی لہر پائی جاتی تھی جب کہ اکثر علاقوں، بالخصوص سوات میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک بگڑ گئی تھی۔

قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچانک امن کا نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے کو دیکھتے ہی دیکھتے کم وقت میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی اور بالآخر ایک ’ہوا’ کا رخ اختیار کر گیا۔ ان دنوں بھی انتخابات سے قبل واضح طورپر دکھائی دے رہا تھا کہ اے این پی صوبے میں اکثریت حاصل کرے گی۔ جب الیکشن کے نتائج سامنے آئے تو اے این پی نے صوبے میں پہلی مرتبہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی۔

گیارہ مئی کے انتخابات سے قبل بھی خیبر پختون خوا اور فاٹا میں پھر سے ایک ہوا کا زور ہے اور اس مرتبہ اس کا رخ پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب ہے۔ ہر طرف نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی طرف سے تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگ رہا ہے جو ہر محلے اور گھر میں گونج رہا ہے۔ گذشتہ دو انتخابات کی طرح اگر اس مرتبہ بھی یہ ہوا پی ٹی آئی کےلیے کارگر ثابت ہوتی ہے تو یقینی طورپر وہ صوبے میں ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔

پاکستان میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ یہ ہوا خود سے نہیں چلتی بلکہ چلائی جاتی ہے۔ ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں اس کےلیے خفیہ اداروں کو موردِ الزام ٹھہراتی رہی ہے، لیکن حالیہ انتخابات میں تاحال سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس قسم کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا ہے۔

البتہ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پچھلے چند دنوں سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر حملوں میں جس انداز سے شدت آئی ہے اس کا بظاہر سب سے زیادہ نقصان تحریکِ انصاف کو پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ ہو لیکن اگر تشدد کے واقعات بڑھتے گئے تو پھر یہ امکان بھی موجود ہے کہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم رہے جس کا زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہی ہوگا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس الیکشن میں تحریک انصاف کا اکثریتی ووٹر وہ خاموش لوگ ہیں جو اس سے پہلے ہونے والے انتخابی عمل سے لاتعلق رہے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جو پاکستان کے موجودہ حالات سے انتہائی تنگ آچکا ہے۔ تو ایسی صورتحال میں یہاں یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ خدا نخواستہ اگر اگلے دو دنوں میں حالات اس طرح مزید خراب ہوتے گئے تو کیا یہ ووٹر ووٹ ڈالنے کےلیے پولنگ سٹیشن آئے گا بھی یا نہیں؟

اسی بارے میں