ایک مولانا، تین حلقے

Image caption مولانا فضل الرحمٰن کو یقین ہے کہ وہ اس مرتبہ تینوں حلقوں سے کامیاب ہوں گے

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن خیبر پختونخوا کے تین حلقوں سے قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور اب تک انھیں تینوں حلقوں پر سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کے مقابلہ کہیں پیپلز پارٹی تو کہیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے مضبوط امیدوار موجود ہیں۔

قومی اسمبلی کے یہ تینوں حلقے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ تاریخی اعتبار سے ان میں کچھ حلقوں سے اہم شخصیات نے انتخابات میں حصہ لیا ہے جن میں ذوالفقار علی بھٹو اور مفتی محمود شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 24 ڈیرہ اسماعیل خان پر اس وقت کل امیدواروں کی تعداد 33 ہے۔ یہ حلقہ پاکستان کے ان چند حلقوں میں شامل ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں امیدوار موجود ہیں لیکن مبصرین کے مطابق یہاں اصل مقابلہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق سینیٹر وقار احمد خان کے درمیان متوقع ہے۔

اس حلقے سے سابق فلم سٹار مسرت شاہین اور سابق ایم این ایے عمر فاروق میاں خیل بھی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں لیکن اب تک کے تجزیوں کی مطابق ان کی پوزیشن کوئی زیادہ مضبوط نہیں ہے۔

اس حلقے پر وقار احمد خان کو بعض ترجیحات حاصل ہیں جیسے وہ مقامی شہری ہیں اور انھیں مقامی لوگوں کو حمایت حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی بڑی آبادی بھی متوقع طور وقار احمد خان کو ووٹ دے سکتے ہیں۔

وقار احمد خان سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنما گلزار خان کے بیٹے ہیں اور انھوں نے گذشتہ دور میں اس علاقے کی طرف توجہ دی ہے جب کہ اس سے پہلے وقار احمد خان یا گلزار خان نے علاقے کی ترقی کے لیے کہیں کوئی بڑے اقدامات نہیں کیے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسماعیل خان کی سیاست کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لیے انھوں نے بعض حلقوں پر قربانی دی ہے مطلب انھوں نے کچھ حلقوں پر اپنے امیدوار نامزد نہیں کیے اور دیگر مضبوط امیدواروں کے ساتھ بارگین کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے تحصیل پہاڑ پور کے صوبائی اسمبلی کے حقلے پر جاوید اکبر خان کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی ہے اور کلاچی میں سابق وزیر اعلیٰ عنایت اللہ خان گنڈہ پور کے بیٹے اسرار خان گنڈہ پور کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ ان دونوں تحصیلوں کے کچھ ووٹ این اے 24 اور کچھ این اے 25 ٹانک کے ساتھ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کو ان دونوں شخصیات کے ووٹ مل جائیں تو این اے 24 پر سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن کو این اے 24 سے شکست ہوئی تھی جب کہ انھوں نے این اے 36 بنوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

گذشتہ دور میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی لوگ مولانا فضل الرحمٰن سے اس لیے خوش نہیں تھے کیونکہ ایم ایم اے کے دور میں بھی ان کے حلقے میں کوئی ترقیاتی منصوبے شروع نہیں کیے گئے تھے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این 25 ٹانک پر بھی حالات کوئی زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ اس حلقے سے نوجوان امیدوار داور خان کنڈی مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں 2008 کے انتخاب میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے تھے اور ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ انھوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی عطا الرحمٰن کو شکست دی ہے لیکن وہ شاید عدالت میں یہ ثابت نہیں کر سکے۔

اس مرتبہ داور خان کنڈی کو پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ دیا گیا ہے جس سے ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹانک میں عمران خان کی وجہ سے پاکستان تحریکِ انصاف کا اچھا خاصا ووٹ بینک موجود ہے۔

اس کے علاوہ ٹانک سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت حبیب اللہ خان کنڈی بھی داور خان کنڈی کی حمایت کر رہے ہیں۔ حبیب اللہ خان کنڈی نے ٹانک میں صوبائی اسمبلی کے حلقے سے متعدد مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

دوسری جانب داور خان کنڈی کے لیے یہ نقصان ہے کہ کنڈی خاندان سے تعلق رکھنے والے سابق سپیکر فیصل کریم کنڈی بھی اسی حلقے سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دونوں کنڈی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ووٹ آپس میں تقسیم کریں گے جس کا فائدہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہنچ سکتا ہے۔

مولانا کو اس حلقے پر جاوید اکبر خان اور اسرار خان گنڈہ پور کی حمایت حاصل ہو گی جس سے اس حلقے پر سخت مقابلے کی امید کی جا رہی ہے۔

اس مرتبہ مولانا فضل الرحمٰن بنوں سے انتخاب میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ اس مرتبہ انھوں نے لکی مروت کا انتخاب کیا ہے۔ اس حلقے میں مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے منعقد کیے ہیں جہاں انھیں شاید یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ لوگ ان سے ناراض ہیں۔ بعض دیہاتوں میں لوگوں نے اس مربتہ اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جس وجہ سے وہاں سے بڑی تعداد میں ووٹ اب جمعیت کو ملنے امید نہیں ہے۔

اس حلقے سے سلیم سیف اللہ خان خان مسلم لیگ نواز کے مضبوط امیدوار موجود ہیں اور یہ ان کا آبائی حلقہ بھی رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس مرتبہ اس حلقے سے بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیر اللہ خان مروت میدان میں اترے ہیں اور انھیں اچھی خاصی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ لکی مروت میں اب خان ازم میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اب متوسط طبقے کے لوگ بھی میدان میں اترے ہیں اور انھیں لوگ پسند کر رہے ہیں۔ ان میں ایک آزاد امیدوار محمد حلیم جان بھی ہیں جنھیں کچھ دیہاتوں کے لوگوں نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو یقین ہے کہ وہ اس مرتبہ تینوں حلقوں سے کامیاب ہوں گے اور ان علاقوں میں یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ اس مرتبہ خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔ صوبائی حکومت بنانے میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر انور سیف اللہ بھی کافی متحرک نظر آتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ روز مانسہرہ میں جلسہ عام میں کہا، ’ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز میرے خلاف متحد ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں، کیوں جھوٹ بولتے ہو قوم سے۔’

مولانا فضل الرحمٰن نے ان تینوں حلقوں میں اپنے بہتریں پتوں کا استعمال کیا ہے اب وقت ہی بتائے گا کہ ان کی ترکیبیں کتنی موثر ثابت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں