’عمران کو صحت یابی کے لیے 3 سے 6 ہفتے درکار‘

Image caption ہسپتال کے باہر عمران خان کی صحت یابی کے لیے دعائیہ پیغامات اور گلدستے رکھے گئے ہیں

لاہور میں انتخابی جلسے کے لیے سٹیج پر چڑھنے کے دوران گر کر زخمی ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے معالجین کے مطابق انہیں آرام کی ضرورت ہے اور مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں انہیں تین سے چھ ہفتے لگیں گے۔

جمعرات کو لاہور کے شوکت خانم ہسپتال میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ بلندی سے گرنے کے باوجود عمران خان کو زیادہ شدید چوٹیں نہیں لگیں اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

زخمی عمران خان کی سلامتی کے لیے دعائیں: تصاویر

تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی نے بھی جمعرات کو عمران خان کی عیادت کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈاکٹروں نے عمران خان کو تین ہفتے تک آرام کا مشورہ دیا ہے۔

ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر فیصل نے صحافیوں کو بتایا کہ عمران خان کی ریڑھ کی ہڈی محفوظ ہے تاہم ان کی کمر کی ہڈی میں فریکچر ہوا ہے جبکہ سر میں بھی زخم آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈاکٹروں کی پہلی ترجیح عمران کا علاج اور دیکھ بھال ہے اس لیے ان سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم ان کے اہل خانہ اور قریبی عزیز و اقارب اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ڈاکٹر فیصل کے مطابق ہسپتال کے حکام عمران خان کی صحت کے بارے میں میڈیا کو روزانہ دوپہر 2 بجے بریفنگ دیا کریں گے۔

تحریکِ انصاف کے اہم کارکنوں کی بڑی تعداد واقعے کے اگلے دن بھی ہسپتال کے باہر جمع ہوئی اور انہوں نے ہسپتال کی دیوار پر اپنے قائد کے لیے صحت یابی کے پیغامات چسپاں کیے اورگلدستے رکھے۔

منگل کی رات عمران خان نے ہسپتال سے ایک پیغام میں کہا تھا کہ عوام گیارہ مئی کو اپنی حالت بدلنے کی لیے نکلیں اور یہ نہ دیکھیں کہ کون امیدوار کھڑا ہے بلکہ نظریے کو ووٹ دیں۔

عمران خان نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے 17 سال پاکستان کے لیے لڑے ہیں اور جو وہ کر سکتے تھے وہ انہوں نے کیا، اب عوام کو 11 مئی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ نیا پاکستان چاہیے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب یہ چاہتے ہیں کہ عوام گیارہ مئی کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کی خود ذمے داری لیں۔

منگل کی شام کو عمران خان غالب مارکیٹ میں جلسے کے لیے تیار کردہ سٹیج پر لفٹر کے ذریعے جا رہے تھے کہ توازن کھونے پر اپنے محافظین سمیت نیچےگرگئے تھے۔ جلسے کا سٹیج زمین سے بارہ سے پندرہ فٹ کی بلندی پر بنایا گیا تھا اور عمران خان چوٹ لگنے کے باعث نیم بےہوش ہوگئے تھے۔

اس واقعے میں عمران خان کی کمر اور سر پر چوٹیں آئی تھیں اور قریبی ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں شوکت خانم ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے اور اب انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں