رہنماؤں کی جوشیلی تقاریر پر انتخابی مہم کا اختتام

Image caption عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا

جمعرات کی شب بارہ بجے ملک بھر میں انتخابی سرگرمیوں کی مدت ختم ہو گئی، جس کے بعد الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضوابط کے مطابق کسی جماعت یا امیدوار کو کسی قسم کی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

گیارہ مئی کے انتخابات سے ایک روز قبل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر انتخابی مہم چلانے پر پابندی ہوگی اور یہی پابندی اخبارات میں انتخابی مہم کے اشتہارات پر بھی عائد ہوگی۔

مہلت کے آخری دن تمام بڑی جماعتوں نے بھرپور جلسوں کا اہتمام کیا تھا۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

دو روز قبل عمران خان سٹیج سے گر کر زخمی ہو گئے تھے اور لاہور کے شوکت خانم ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل کہہ رہا ہے کہ الیکشن کی شام کو وہ شکرانے کے نفل پڑھ رہے ہوں گے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ امیدواروں کے انتخاب میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن وعدہ کیا کہ تحریکِ انصاف کا جو رکنِ اسمبلی اپنے آپ کو نہیں بدلے گا، اسے تحریکِ انصاف میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھی آخری دن جلسے سے خطاب کیا۔ انھوں نے لاہور میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کی تقدیر بدلیں گے اور یہاں تبدیلی نہیں بلکہ انقلاب لے کر آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ملک کو تجربہ کار قیادت فراہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی الزام تراشی کی سیاست نہیں کی۔ میاں نواز شریف نے تقریر کے دوران کئی اشعار بھی سنائے جن میں ’خودی کو کر بلند اتنا،‘ ’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘ اور ’تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں‘ شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئرمین بلاول زرداری نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے مختلف مقامات پر پیپلز پارٹی کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ بلاول سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دبئی میں ہیں۔

انھوں نے اسلام آباد کے قریب بارہ کہو کے مقام پر جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے لیے نظریاتی سازش تیار کی گئی ہے، جو دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جنرل ضیاء الحق کا پاکستان بنانے کی سازش کی جا رہی ہے اور وہ اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے ووٹروں سے کہا کہ ’آؤ ہم سب ایک تیر بن کر دہشت گردوں کے سینے میں اتر جائیں۔‘

جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے بھی اسلام آباد میں ایک جلسے سے خطاب کیا۔

خوں ریز انتخابی مہم

Image caption نواز شریف نے لاہور میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا

تین ہفتوں پر محیط انتخابی مہم خوں ریز رہی ہے اور اس دوران تشدد کے کم از کم 77 واقعات پیش آئے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران کم از کم 110 افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں سے 56 دہشت گردی اور 21 سیاسی مخالفت کی بنا پر تشدد کے تھے۔

ادارے کے مطابق اپریل میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 19، 19 واقعات، سندھ میں 11، فاٹا میں پانچ اور پنجاب میں دو واقعات رونما ہوئے جن میں 81 افراد کی جان گئی اور 348 زخمی ہوئے۔

ادارے نے خیبر پختونخوا، فاٹا اور کراچی میں ان واقعات کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان جب کہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں کو ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن نے پولنگ عملے کے لیے ضابطۂ اخلاق ملک بھر کے پولنگ سٹیشنوں پر بھیج دیا ہے اور کمیشن کے مطابق اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کو نااہل قرار دیا جائے گا، ایک لاکھ جرمانہ ہو گا یا ریٹرننگ افسر نتائج روک دے گا۔

ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کا عملہ رائے دہندگان سے عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئے۔ پریزائیڈنگ افسر ریٹرننگ افسروں کے سوا کسی دوسرے کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے۔ اسی طرح پولنگ کا عملہ کسی سیاسی جماعت کے بیج نہیں لگائے گا۔

اسی بارے میں