خوف کے سائے میں انتخابی مہم

Image caption ’عملی طور پر چیف الیکشن کمشنر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود ہیں نہ کہ فخر الدین جی ابراہیم‘

’میرے جانے کے تھوڑی دیر بعد آپ چلے جانا ابھی نہیں‘۔ یہ مشورہ تھا عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کا جو انہوں نے مجھے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک انٹرویو کے بعد روانہ ہونے سے قبل دیا۔

طالبان کے نشانے پر ایک سیکولر سیاسی جماعت کے رہنما کا یہ پیغام بہت واضح تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مکان سے نکلتے وقت کسی حملے کی صورت میں ہم بھی اس میں گِھر جائیں۔

ملک میں جاری انتخابی مہم میں چاہیے تو یہ تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنے ووٹروں کے نخرے اٹھاتی لیکن یہ جماعت روزانہ اپنے کارکنوں کے جنازے اٹھا رہی ہے۔

ایسے خونی انتخابی پس منظر میں جماعت کا کہنا ہے کہ اگر اسے ماضی کی قومی اسمبلی کی 13 نشستوں کے مقابلے میں محض 2 یا 4 نشستیں بھی مل جائیں تو وہ مطمئن ہوں گے، اس وقت انسانی جانیں ضروری ہیں نہ کہ نشستیں۔

اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کہاں رہتے ہیں یہ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا۔ ہماری ملاقات عارضی مقام پر ہوئی جہاں نہ کوئی پولیس تھی نہ فوجی۔ تاہم ان کے اپنے تقریباً ایک درجن مسلح محافظ ضرور تھے۔

ایک ایسے شخص کے لیے جو کسی ایک مقام پر بند ہونے سے زیادہ گھومنا پھرنا پسند کرتا ہو یہ طرز زندگی کافی تکلیف دہ ہوگا۔ شاید مشکلات نے انہیں کافی مدھم بھی کر دیا ہے۔ کسی کی ایک نہ سنے والے اور اکثر انٹرویو کرنے والے سے الجھ جانے والے اسفندیار اب سوال تحمل سے سنتے اور کافی سوچ بچار کے بعد جواب دیتے ہیں۔

اسفندیار ولی خان کے بقول اس وقت عملی طور پر چیف الیکشن کمشنر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود ہیں نہ کہ فخر الدین جی ابراہیم۔ ان کا یہ الزام قدرے ناانصافی پر مبنی ہے کیونکہ امن عامہ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی نہیں بلکہ یہ ذمہ داری نگران حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ہے۔

اسفند یار ولی کا ایک نکتہ کافی غور طلب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہا پسند عناصر چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختوخوا میں معتدل عناصر کو اسمبلیوں اور حکومتوں سے دور رکھا جائے۔ اگر ایسا ہے تو امن و امان کی صورت حال میں بہتری کی امید ہنوز دور است کیونکہ اب یہ تشدد دینی جماعتوں کا بھی رخ کر رہا ہے۔

اگر آپ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو آج کل تمام اہم اچھے یا برے سیاسی کھلاڑی ’آوٹ آف ایکشن‘ دکھائی دیتے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے صدر آصف علی زرداری تو کافی پہلے کے عوامی اجتماعات سے گریّز کر رہے تھے لیکن اب لاہور ہائی کورٹ نے بھی ان کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین تو کب کے پردیس میں مقیم ہیں اور اب اسفندیار ولی کی نقل و حرکت بھی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اس کے بعد کس کا نمبر ہے اس حوالے سے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ ایک ایک کر کے شاید سب کا نمبر آئے گا۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو معلوم نہیں کس نے پاکستان واپس آنے کا مشورہ دیا اور وہ بھی فارم ہاؤس پر نظر بند ہوگئے۔

ایک ایسے وقت میں جب شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے پاکستان میں خوف کا عالم ہے، میرے ٹوئٹر پر پوچھے جانے والے سوال کہ مجھے اسفندیار سے انٹرویو میں کون سے سوال پوچھنے چاہیئیں ایک شخص تیمور علی مہمند نے کہا کہ پوچھیں کہ آیا وہ چارسدہ میں اپنا ووٹ ڈال سکیں گے یا نہیں۔

میں نے یہ سوال پوچھا تو نہیں لیکن ایسا محسو س ہوتا ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی فضا کی وجہ سے 11 مئی کو ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہے گا۔

اسی بارے میں