’اشتہاروں کی بجائے سکول بنا دیتے‘

Image caption ملک بھر میں انتخابی اشتہاروں پر دس ارب روپے خرچ کرنے کی اجازت تھی لیکن اصل خرچ اس سے کہیں زیادہ تھا

پاکستان میں گیارہ مئی 2013 کو منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں نے اپنی اشتہاری مہموں کو ایسے دور افتادہ علاقوں تک بھی پہنچانے کی کوشش کی جہاں صحت یا تعلیم کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔

اس کی وجہ پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے رکھا جانے والا وہ بجٹ تھا جس میں امیدوار کھل کر نہ صرف ٹی وی ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے بلکہ پوسٹروں اور بینروں کے ساتھ ساتھ لاتعداد جھنڈے بھی سڑکوں، بازاروں اور چوراہوں پر نظر آئے۔

فہمیدہ لقمان ایک سرکاری سکول میں 24 سال سے تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ‘ان سیاستدانوں کو کوئی سمجھاتا کہ ان ٹی وی اشتہاروں کی بجائے اپنے حلقوں میں محض 50 بچوں کے لیے ایک ایک پرائمری سکول بنا دیتے تو الیکشن مہم اور زیادہ بااثر ہوتی اور اس کا مقصد بھی پورا ہو جاتا۔’

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق انتخابی مہم کے لیے قومی اسمبلی کے ہر امیدوار کو 15 لاکھ روپے جب کہ صوبائی اسمبلی کے ہر امیدوار کو دس لاکھ روپے خرچ کرنے کی اجازت دی گئی۔ یوں قومی اسمبلی کے 4671 اور صوبائی اسمبلی کے 10958 امیدوار مجموعی طور پر 18 ارب روپے خرچ کرنے کے اہل قرار پائے۔

فہمیدہ لقمان کے مطابق جتنی رقم سیاستدانوں کو تشہیری مہم کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی اس سے باآسانی ملک بھر میں بچوں کے لیے تقریباً 35 ہزار سکول قائم کیے جا سکتے تھے۔

‘تقریباً 50 بچوں کے لیے پرائمری سطح پر ایک چھوٹا سا سکول جس میں تمام بنیادی سہولتیں مثلاً بجلی، پانی، کھیل کا میدان، جھولے بچوں کا فرنیچر (سٹیل کا ضروری فرنیچر) اور اساتذہ کے لیے فرنیچر وغیرہ شامل ہیں۔ اسے قائم کرنے پر دو سے پانچ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ پتا نہیں یہ ٹی وی پر اشتہار چلا کر کیوں سمجھتے ہیں کہ عوام تک ان کا پیغام پہنچ گیا ہے۔’

یہاں یہ یاد رہے کہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دا چائلڈ (سپارک) کی 2012 میں جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

بات صرف تعلیم تک ہی محدود نہیں، پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر سال لاکھوں افراد صحت کی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی بنا پر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ سید نعیم الحسن بچوں کی صحت اور تعلیم کے لیے قائم ایک تنظیم کے بانی ہیں۔ وہ 11 سال تک شوکت خانم ہسپتال میں کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ‘جتنا پیسہ اس انتخابی مہم کے دوران لگایا گیا ہے اس سے پورے ملک میں صحت کے بنیادی مراکز کا جال بچھایا جا سکتا تھا جہاں پہ لوگوں کو دو دن کی دوائی، علاج، مفت دوا وغیرہ جیسی سہولتیں میسر آتیں۔’

نعیم الحسن کہتے ہیں، ‘ہماری فاؤنڈیشن کے تحت اس وقت 40 ہیلتھ کئیر سنٹر کام کر رہے ہیں اور ان کا سالانہ بجٹ تین سے چار کروڑ روپے ہے، ہم روزانہ پانچ سے چھ ہزار مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، پورے ملک میں ایسے ہیلتھ کئیر سنٹرز کیوں قائم نہیں ہو سکے؟ ایک پرائمری ہیلتھ کئیر سنٹر بنانے میں مشکل سے پانچ لاکھ روپے لگتے ہیں۔’

پاکستان کا شمار ایسے پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے جن کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع، خواتین کی بہبود اور ماں اور بچے کی صحت جیسے معاملات پر 2000 میں 15 سال کی مدت کے لیے اہداف رکھے گئے تھے تاکہ ان شعبوں میں استحکام پیدا کیا جاسکے۔

ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جہاں پاکستان کے پاس محض دو سال کا عرصہ رہ گیا ہے، وہیں اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے مطابق پاکستان مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2.3 فیصد اور ملکی بجٹ کا 9.9 تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ جبکہ بھارت میں قومی پیداوار کا 4.5 فیصد جب کہ ملکی بجٹ کا 12.7 فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کیا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش میں یہ شرح بالترتیب 2.1 اور 14.1 فیصد ہے۔

ایسے میں پاکستان میں تاریخی انتخابات کے لیے مہم کے سلسلے میں محض ٹی وی پر چلائے جانے والے اشتہارات پر اٹھنے والا خرچ ماہرین کے مطابق اربوں روپے ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ ملک کے کونے کونے تک اپنے کیے ہوئے کارناموں کی تشہیر اور مخالف امیدوار اور جماعتوں پر ذاتی حملوں کی بجائے اگر یہ سیاستدان اس بار انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی کام کر لیتے تو شاید انتخابات کا نتیجہ واضح اور مختلف ہوتا۔

’انقلاب،‘ ’تبدیلی‘ یا ’نیا پاکستان،‘ تعلیم کی فراہمی اور صحت کی بنیادی سہولتوں تک ہر شہری کی رسائی کے بغیر یہ سب دلفریب نعرے تو ہو سکتے ہیں، جس سے وقتی طور پر عوام بہل جائیں، مگر حقیقی دنیا میں ان کے دُور رس نتائج نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں