کرم ایجنسی کے حلقہ 38 میں انتخابات ملتوی

Image caption اس ماہ کی سات تاریخ کو کرم ایجنسی میں ایک بم دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے

الیکشن کمیشن نے کرم ایجنسی کے حلقہ این اے 38 میں انتخابات ملتوی کر دیے ہیں، جس کی وجہ امن و امان کی خراب صورتِ حال بتائی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق پولیٹیکل ایجنٹ نے امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

این اے 38 قبائلی علاقہ 3 کرم ایجنسی کے دیگر علاقوں کو کور کرتا ہے۔ یہاں سے گذشتہ بار مدمقابل امیدواروں کی تعداد 20 تھی جن میں منیر خان اورکزئی بھاری اکثریت سے کامیاب قرار پائے تھے تاہم اس بار وہ اس نشست کے لیے جے یو آئی (ف) کے امیدوار تھے۔

گذشتہ ہفتے اس ایجنسی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اُمیدوار کے انتخابی جلسے میں بم دھماکا ہوا جس میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ دھماکا پیر کی شام ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے بیس کلومیٹر دور وسطی کُرم کے علاقے سیواک میں اس وقت ہوا تھا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اُمیدوار مُنیر اورکزئی کا جلسہ ختم ہونے والا تھا۔

اس حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ منیر اورکزئی سابقہ حکومت کا حصہ تھے اس لیے انھیں نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے حملہ اس لیے نہیں کیا یہ جمیعتِ علمائے اسلام ف کا جلسہ تھا، بلکہ اس لیے کہ انتخابی امیدوار منیر اورکزئی نے بقول ان کے اسلام اور مجاہدین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

کرم ایجنسی میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان بھی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ دس مئی ہی کو کْرم ایجنسی میں ایک فوجی قافلے پر حملے کے بعد یرغمال بنائے جانے والے فوجیوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کے دوران چار اہلکار اور نو شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

کرم ایجنسی کی قومی اسمبلی کی نشت این اے 38 سے جمعیت علمائے اسلام ف کے منیر اورکزئی کے علاوہ تحریک انصاف نے حضرت نبی کو، پی پی پی نے ملک ذوالفقار علی کو جب کہ مسلم لیگ (ن) نے نوید احمد خان کو ٹکٹ دیا تھا۔ ان کے علاوہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد یہاں سے انتخابات میں حصہ لے رہی تھی۔

تا حال اس حلقے میں انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں