انتخابی مہم کے سہانے خواب

Image caption انتخابات نےجہاں سیاسی عمل میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے وہیں لوگوں نے ان سے بہت سی توقعات بھی وابستہ کرلی ہیں

افضال اشرف لاہور کے علاقے بلال گنج کے رہائشی ہیں ۔ اس علاقے میں لوہے کا کاروبار کرنے والوں کی سینکڑوں دکانیں ہیں۔ افضال اشرف بھی خراد کا کام کرتے ہیں۔

12 افراد کی کفالت کے ذمےدار افضال اس مرتبہ نواز شریف کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ افضال کہتے ہیں ’نوازشریف کا پہلا کام یہی ہوگا کہ وہ بجلی کا مسئلہ حل کریں گے کیونکہ وہ اپنے انتخابی جلسوں میں بار بار یہ وعدہ کرتے رہے ہیں‘۔

افضال کے مطابق ’بجلی نہ ہونے کے باعث ہم ذہنی مریض بن چکے ہیں، ہمارا کاوربار 85 فیصد تباہ ہوچکا ہے، پہلے ہم 6,00 سے 7,00 سو یونٹ استعمال کرتے تھے لیکن اب 50 یا 60 سے اوپر نہیں ہوتے کیونکہ بجلی ہے ہی نہیں اور ہمارا کام بجلی سے ہی چلتا ہے‘۔

پاکستان میں تین ہفتے کی انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور اور پروگرام بڑھ چڑھ کر عوام کے سامنے پیش کیے جس کے دوران عوام کو ایک مرتبہ پھر کئی سہانے خواب دکھائے گئے۔

وہ جماعتیں جو سکیورٹی خطرات کے باعث براہ راست بھرپور عوامی رابطہ مہم نہیں چلا سکیں انھوں نے بھی الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر اپنا پیغام پرزور انداز میں ووٹروں تک پہنچایا۔

افضال کی طرح پاکستان کے کروڑوں ووٹرز اس مرتبہ انتخابات سے بڑی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ اور ہر کسی کو توقع ہے کہ حکومت کی تبدیلی شاید ان کی پریشانیوں کا مداوا کرسکے۔

شفیق احمد کباڑیہ کے نزدیک ’اس وقت تو ملک کے حالات بہت خراب ہیں اور زندگی کا کوئی بھی معاملہ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا۔ ہم تو یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی بہتر انسان انتخاب میں آگے آجائے تو حالت سنور سکتی ہے‘۔

انتخابات نےجہاں سیاسی عمل میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے وہیں لوگوں نے ان سے بہت سی توقعات بھی وابستہ کرلی ہیں۔ ان توقعات کی بنیادی وجہ سیاستدانوں کے وہ وعدے ہیں جو انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے۔

سٹیشنری کی دکان چلانے والے شوکت علی کہتے ہیں ’وعدہ تو خلوص نیت اور سچے دل سے کیا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کے وعدوں کا کیا اعتبار؟ م انھوں نے ماضی میں ہمیشہ ہی مایوس کیا لیکن کیا کریں زندہ رہنے کے لیے امید تو قائم رکھنی پڑتی ہے۔ ہم تو امید کر رہے ہیں کہ شاید اس بار کوئی تبدیلی ممکن ہوسکے اور کوئی مہم کے دوران کیے وعدوں کو بھی یاد رکھے‘۔

جلوس، کارنر میٹنگز اور ریلیوں مہم پر مشتمل انتخابی مہم بالاآخر جمعرات کو اپنے انجام کو پہنچ چکی۔ تین ہفتے کی اس مہم کے دوران کسی نے تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تو کوئی بجلی کے بحران ختم کرنے کی بات کرتا رہا۔

تجریہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن کے بقو ل’اس مرتبہ پہلی بار زیادہ مہم ٹیلی وثیرن پر چلائی گئی۔ اس سے پہلے ہمیشہ جلسے جلوسوں پر زیادہ زور ہوا کرتا تھا لیکن اس بار افسوسنا ک بات یہ بھی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران نظریات غائب رہے۔ اور تمام بڑی پارٹیوں کی مہم اپنی مخالف جماعتوں پر تنقید اور الزامات عائد کرنے اور اپنی معمولی معمولی کامیابیوں کو اجاگر کرنے پر مرکوز رہی۔ بغیر نظریے کے نہ تو مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیلی آسکتی ہے۔ تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1970 کے انتخابات میں دو بڑی جماعتوں نے نظریے دیے اور دونوں ہی کامیاب ہوئیں۔‘

مبصرین کے مطابق ووٹرز کی ترجیحات ہی ملک کی سمت کا فیصلہ کریں گی لیکن اس وقت لوگ جس عذاب میں زندگی گزار رہے ہیں، انھیں نظریے کی کیا فکر اور سمجھ۔ ان کے لیے اہم ہے تو یہ کہ ان کی دال روٹی کیسے چلے گی، ان کی جان اور مال کا تحفظ اور ان کے بچوں کو ایک بہتر مستقبل کیسے مل سکے گا۔

اسی بارے میں